واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
مدرسہ عالیہ فتح پوری کی طالب علمی کا واقعہ استاذ محترم مولانا اشتیاق احمد صاحب مدرس جامعہ عربیہ ہتھورا بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس نے احقر کو جب دارالعلوم دیوبند داخلہ کے لئے بھیجا ، اس وقت علامہ ابراہیم صاحب کے نام ایک سفارشی پرچہ تحریر فرمایا اور ایک واقعہ بھی سنایا اورفرمایا کہ علامہ ابراہیم صاحب ؒ اگر مجھ کو نہ پہچان سکیں تو یہ واقعہ ان کو یاد دلادینا۔ حضرت نے فرمایا وہ واقعہ یہ ہے کہ میں نے جب مدرسہ عالیہ فتح پوری میں آکر داخلہ لے لیا تو بہت محنت سے پڑھتا تھا اساتذہ مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے امتحانوں میں الحمدﷲ اعلی نمبرات سے اول درجہ سے پاس ہوا اور یہ پہلا موقع تھا جس میں یوپی کا لڑکا امتحان میں درجۂ اول سے کامیاب ہوا تھا۔ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم نہ ہوئی تھی۔پنجاب ، پشاور وغیرہ کے لڑکے کثرت سے پڑھتے تھے اور عموماً اسی علاقہ کے لڑکے اعلی نمبرات سے کامیاب ہوتے تھے اور یوپی کے لڑکے تعلیمی اعتبار سے کمزور سمجھے جاتے تھے، لیکن اس امتحان میں میرے اعلی نمبرات آجانے سے دوسرے طلباء کو شکایت ہوئی اور اعتراض کیا کہ یہ غلط کامیاب ہوگیا امتحان پھر سے ہونا چاہئے۔ چنانچہ دوبارہ امتحانات ہوئے اس میں بھی الحمدﷲ پہلے سے زیادہ اعلی نمبرات سے کامیاب ہوا جس کی وجہ سے طلباء کو شدید قسم کا حسد ہونے لگا۔ اورساتھیوں کی طرف سے میرے لئے شدید خطرات ہوگئے اس وقت علامہ ابراہیم صاحب نے مجھے پناہ میں رکھا ، اپنے کمرہ میں رہنے کی جگہ دی اور پوری نگرانی و حفاظت میں رکھا۔ یہ واقعہ ششماہی امتحان کے موقع کا ہے۔ مولانا اشتیاق صاحب نے جب یہ واقعہ علامہ ابراہیم صاحب سے ذکر کیا تو علاؒمہ کویہ واقعہ یاد آگیا اورانتہائی اپنائیت میں شکوہ کے لہجہ میں فرمایا کہ جب کام پڑتا ہے تب ہی لوگ یاد کرتے ہیں ۔