واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
رہبر۔ اب کیا کریں نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کا مضمون تھا اسٹیشن سے گاڑی چلی جانے کے بعد سناٹا ہوگیا۔ دیہات کا اسٹیشن تھا وہ مقام جہاں جانا تھا ۱۲ میل کے فاصلہ پر تھا ساتھ میں روشنی ، سواری، رہبر کوئی نہیں راستہ جنگلی اور اجنبی ان دونوں حضرات نے ہمت کی اور اسی راستہ پر جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے کچی پگڈنڈیوں پر چلتے رہے اور رات کو ایک بجے کے قریب وہاں پہونچے سب لوگ سورہے تھے حضرت کے پہونچنے پر صاحب خانہ کو اطلاع ہوئی تووہ ناد م شرمندہ دوڑے ہوئے آئے اور معذرت کرنے لگے کہ حضرت میں مصروفیت کی وجہ سے سواری بھیجنا بالکل بھول گیا، حضرت نے نہایت فراخدلی سے اسکو نظر اندازفرمادیا۔ ( تذکرۂ صدیق ، ص:۱۹)مدرسہ کی ضروریات کی ہر وقت فکر اور شان استغناء کا ایک واقعہ حضرت اقدس ؒ کا مزاج تھا کہ کہیں بھی تشریف لے جاتے اپنے مدرسہ اور مدرسہ کے طلباء کی ضروریات نہیں بھولتے کسی علاقہ میں اینٹوں کے بھٹہ پر سے گذرہوا تو اینٹوں کا نرخ معلوم کرتے، غلہ منڈی سے گذرنا ہوتا یا ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی تو غلہ گیہوں چاول کا بھاؤ معلوم کرتے حتی کہ ضرورت کہ کوئی چیز مثلاً عمد ہ چھری (ریت)چاقووغیرہ سستی ملتی مہمانوں کے لئے اس کو خرید کر گاڑی میں رکھ لیتے، یہ حضرت کی عام عادت تھی۔ حضرت اقدسؒ کا سلطانپور کا سفر تھا، سلطانپور میں ایک صاحب کی دکان پر سے گذر ہوا جن کی دکان میں پلاسٹک کی عمدہ بالٹیاں فروخت ہورہی تھیں ، حضرت کو پسند آئیں اس نمونہ کی بڑی بالٹیاں دیکھ کر حضرت نے فرمایا مدرسہ میں مہمانوں کے لئے