واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کو بھی متوجہ کیا، حضرت ایک لمحہ کیلئے نگاہ ڈالتے اور پھر اپنے کام میں لگ جاتے، میں نے ایک بار مزید عرض کردیا کہ حضرت دیکھئے تو کتنا حسین منظر ہے ، حضرت نے قدرے بیزاری کے ساتھ فرمایا کہ ان کا کیا دیکھنا، اور اپنے کام میں یعنی تلاوت میں مشغول ہوگئے۔ دوران سفر ہی آپ نے بہت سے نعتیہ کلام اور نظمیں کہیں ہیں کیونکہ سفر میں ہی حضرت کو کچھ کہیں یکسوئی میسر ہوجاتی تھی اور آپ کا ذہن نعت رسول میں محوہوتا تھا۔ کانپور کے اطراف میں ایک مرتبہ جلسہ میں تشریف لائے بھیڑ تو ہر جگہ امنڈپڑتی تھی آپ نے وہیں کنارے اپنا جھولا منگایا اور شرح جامی کی کاپی قلم نکال کر شرح لکھنا شروع کردی۔ سلم العلوم شرح تہذیب جیسی دقیق کتابوں کی شرح اکثر اسٹیشنوں پر لکھنے بیٹھ جاتے اورجہاں موقع ملتااور چند منٹ بھی مل جاتے وہاں وقت غنیمت جان کر اس وقت کو وصول کرتے۔ ایک سکینڈ آپ کا خالی بیکار نہ گذرتا۔سفر میں بھی کتابوں کے ادب و احترام کا لحاظ فرمایا جب میں سفر میں جاتا ہوں اور کوئی دینی کتاب جھولے (تھیلے) میں رکھی ہوئی ہوتی ہے اور بھیڑ کی وجہ سے تھیلا کبھی سیٹ کے نیچے رکھنا پڑتا ہے اور سیٹ کے اوپر بیٹھنا ہوتا ہے تو ضرور ت اور حاجت کی وجہ سے اس کی گنجائش ہے، لیکن پھر بھی طبیعت گوارہ نہیں کرتی، اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ کتاب نیچے ہو اورہم سیٹ پر بیٹھے ہوں اس لئے تھوڑی دیر تو میری کتاب جھولے میں رہتی ہے اور جب اطمینان سے بیٹھ جاتا ہوں تو کتاب نکال کر رومال میں لپیٹ کر اسے اوپر رکھ لیتا ہوں ۔ حضرت اقدس ؒ الاشباہ والنظائر کا درس دے رہے تھے جس میں ایک عبارت آئی اذاتوسد الکتاب فان قصد الحفظ لایکرہ والا یکرہ، (الاشباہ ، بحوالہ تاتا رخانیہ ص۵۵)