واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
بہت سی چیزوں میں ہمارا ہندوستان اب بھی بہت غنیمت ہے، وہاں حفظ کی تعلیم گویا ہے ہی نہیں ، ریڈیو پر جو لوگ تلاوت کلام پاک کرتے ہیں وہ بھی دیکھ کر کرتے ہیں وہاں درجۂ حفظ کا جومدرسہ ہے وہ بھی ہندوستانیوں ہی نے قائم کیا ہے، میں نے اپنے ساتھی کے پاس لکھ دیا ہے کہ اگر ایسی بات ہے تو آپ صرف کرایہ کا انتظام کردیجئے اور جتنے کہئے ہر سال اتنے حافظ یہاں سے بھیج دیا کروں گا کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت ہم نے تو سنا ہے کہ وہاں تو علم دین کی بڑی ترقی ہے۔ قرآن پر بہت محنت ہورہی ہے فرمایا کہ میں جہاں کا واقعہ بتلارہاہوں وہ مکہ سے ڈھائی سوکلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور یوں بھی وہاں حفاظ بہت کم ہوتے ہیں ۔ حفظ کرانے کا رواج ہی کم ہے۔ (افادات صدیق)بیمار طلباء کی خدمت حضرت اپنے چھوٹوں اور طلباء کی ہر قسم کی خدمت کرتے استاذ ی حضرت مفتی عبیداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ سفر میں ایک بیمار طالب علم ساتھ تھا اس کو قے ہوگئی کپڑے خراب ہوگئے اور بھی لوگ موجود ہیں ، کئی چھوٹے ہیں ، وہ کہہ رہے ہیں اور چاہ رہے ہیں کہ ہم بچے کے کپڑے صاف کردیں مگر باصرار ان کو منع کردیا اور خود کیا۔ مدرسہ کے ایک طالب علم جس کے بدن کو بے انتہا زخم نے ایسا کردیا تھا کہ اس کمرے کی طرف سے لوگ نہیں گذرتے تھے مگر حضرت اس کا بدن و بستر سب صاف کرتے اور بعض نابینا طلباء کے بدن وکپڑوں سے میل نکالتے اور ان کو نہلاتے دھلاتے۔ یہی نہیں اور سنئے ایک زمانے تک مدرسہ کے لئے لکڑیاں جنگل سے آتی تھیں اور دور تک جنگل میں جانا پڑتا، ببول و کھجور کے کانٹوں سے گذرنا ہوتا، بسا اوقات بچاتے بچاتے وہ کانٹے بری طرح پیروں میں چبھ جاتے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم کے پیروں میں کھجور کا کانٹا جولمبا اور مضبوط ہوتا ہے