واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
پر بٹھائے گئے، جس مٹی کو چھودیا سونا بنادیا، جس سمندرمیں کود پڑے پایاب ہوگیا، جدھر سے گذر گئے زمین و آسمان چہکنے لگے، علماء نے سر پر اٹھالیا، تاجروں نے مال و دولت نچھاور کردی ، لوگوں نے قدم چوم لئے ، عوام نے دل کھول کر اس میں مجسمے نصب کرلئے، اس لئے جب وہ چلے گئے تو بوڑھے اور جوان روپڑے، عورتیں اور بچے سر پیٹ کر رہ گئے علم و عمل دوہائیاں دینے لگے ملک بھر سے لوگ انکی قبر پر مٹی ڈالنے کے لئے بڑی بیتابی سے اٹھ کر گئے۔ (فکر اسلامی صدیق نمبرتذکرۃ الصدیق،ص:۵۶۵)بے نفسی اوردوسروں کی رعایت کا حیرت انگیز واقعہ مولانا مفتی شکیل احمد صاحب سیتاپوری مدظلہ اپنا چشم دید واقعہ بتاتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صد سالہ کی فراہمی سرمایہ کیلئے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ناچیز اور مفتی ظفیر الدین صاحب (مرتب فتاویٰ دارالعلوم) کو ۷۹ءمیں حضرت باندوی کی خدمت میں بھیجا اورایک مکتوب عنایت فرمایا جس میں حضرت باندوی سے استدعاء کی گئی تھی کہ لکھنؤ میں اپنے متعلقین کو اس جانب متوجہ فرمادیں ، حضرت باندوی بلاتکلف اس کام کے لئے ہتھورا سے لکھنؤ کیلئے ہم خدام کے ہمراہ روانہ ہوگئے، جبکہ حضرت ؒ نے کبھی بھی اپنے ادارہ کیلئے اس طرح کی تحریک نہیں کی، اس باب میں حضرت بہت محتاط اورحساس واقع ہوئے تھے، ہم لوگ باندہ میں روڈ ویز بس پر سوار ہوئے جو لکھنؤ جارہی تھی بس میں صرف ایک سیٹ خالی تھی بس میں جب حضرت نے قدم رکھا تو پوری بس میں ہلچل پڑگئی کنڈیکٹر ، ڈرائیور، اور سواریاں کہنے لگیں بابا آگئے بابا آگئے(علاقہ بھر میں حضرت کو غیر مسلم بابا کے نام سے یاد کرتے تھے ان کے یہاں اس لفظ کے معنیٰ ہیں خدا رسیدہ اور زاہد مرتاض شخصیت) بہت سے لوگ اپنی سیٹوں سے اٹھ گئے کہ بابا یہاں تشریف لائیں ، یہاں بیٹھئے لیکن حضرت کو صرف ہم