واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
حضرت بھی اس میں تشریف فرما تھے)ناشتہ کی دعوت تھی جس میں بہت سے بڑے ڈاکٹر بھی مدعو تھے، جو حضرت اقدس سے عقیدت ومحبت رکھتے تھے، ڈاکٹروں کے درمیان دسترخوان پر حضرت اقدس جلوہ افروز تھے، مختلف تذکرے چل رہے تھے ایک ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ کثرت سے مریض ایسے آتے ہیں کہ بیماری تو ان کو کچھ نہیں ہوتی خواہ مخواہ پریشان ہوتے ہیں سینکڑوں روپیہ برباد کرتے ہیں مجبوراً نفسیاتی طورپر ان کا علاج کرنا پڑتا ہے اوراسی سے ان کو شفاء ہوتی ہے۔ ایک صاحب کی بیماری کا تذکرہ ہوا کہ اتنے بڑے بڑے ڈاکٹروں نے جانچ کر ڈالی لیکن مرض کی تشخیص نہیں ہوسکی، کتنی جانچیں کروالیں مرض کا سراغ نہ لگ سکا بعد میں معلوم ہوا کہ کچھ نہیں انکو صرف ملیریا بخار ہے،ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ اتنا عام مرض ملیریا، لیکن بڑے بڑے ڈاکٹر سب پریشان تھے اور مرض کی تشخیص نہیں کرسکے۔ (مجالس صدیق)استغناء اور مخلوق سے بے نیازی کے واقعات حضرت کے خلیفہ مولانا احمد عبداللہ طیب کا بیان ہے؛ ایک مرتبہ حضرت کو کانپور رکتے ہوئے لکھنؤ جانا تھا بطور خادم احقر بھی ساتھ تھا نماز فجر سے قبل پسنجر ٹرین سے سفر شروع ہوا۔ قریب گیارہ بجے کانپور پہونچے، تب تک ناشتہ چائے کی نوبت نہیں آئی۔ لوگ آتے گئے ، ملاقات کا سلسلہ چلتا رہا، کسی نے خواہش کی حضرت ہمارے گھر چلیں ، ناشتہ کرلیں ، حضرت انکار فرماتے کسی نے کہا کہ حضرت ناشتہ ہم یہیں لے آئیں ، حضرت انکار فرماتے، میں بھوک سے بے تاب ہورہا ہوں ، کچھ کہنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی، کانپور اسٹیشن سے قریب مسجد شترخانہ ہے وہاں حضرت پہنچ گئے، لوگوں کا ہجوم واصرار بڑھتا رہا، حضرت نے لوگوں سے کہا کہ مجھے کچھ آرام کرنا