واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اندھیری رات میں ہم دونوں چل رہے تھے اچانک دیکھا کہ پیچھے سے کسی نے آکر میرے ایک چھڑی ماری میں چونک گیا اورسمجھا کہ پولیس والے ہیں مجھ کو چوریا مجرم سمجھ رہے ہیں لیکن جب آواز سے انہوں نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا تب میں نے سمجھا یہ میرے ماموں ہیں ماموں نے کہا تم یہاں پھر رہے ہووہاں سب لوگ پریشان ہیں تمہاری تلاش ہورہی ہے کہ کہاں چلاگیا۔ کہرام مچ گیا رونا پیٹنا ہوگیا والدہ کا براحال ہے۔ الغرض رات کسی طرح ہم لوگوں نے باندہ ہی میں گذاری ماموں بھی بھوکے تھے اور ہم لوگ بھی۔ اتنے پیسے نہ تھے کہ کچھ کھاتے پیتے اور میرے پاس جو پیسے (بکری والے) تھے اسکا کسی کو علم نہ تھا کسی کو گمان ہی نہ تھا کہ میں نے روپئے لئے ہونگے وہ تو بعد میں میرے بتلانے سے لوگوں کو علم ہوا بہر حال صبح ہم دونوں باندہ سے ہتھورا واپس لائے گئے اور پانی پت جانے کا پروگرام فیل ہوگیا۔کانپور کی طالب علمی کے واقعات مفتی محمد زید صاحب گذشتہ واقعہ کے بعد کے واقعات نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا کہ گھر آکر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے پڑھنے کیلئے باہر جانا ہے لیکن میری والدہ کسی قیمت پر تیار نہ ہوتی تھیں ۔ میں ہی گھر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میری دونوں بہنیں جو عمر میں مجھ سے چھوٹی تھیں وہ بھی اللہ کو پیاری ہوچکی تھیں گھر میں نہ باپ نہ دادا کیسے مجھ کو چھوڑ دیتیں ۔ لیکن جب میری ضد اور اصرار کو دیکھا کہ کسی قیمت پر رکنے کو تیار نہیں ہے۔ تب مولانا امین الدین صاحب کو بلایا ان سے مشورہ کیا مولانا نے فرمایا کہ پانی پت تو بہت دور ہے یہیں قریب کے کسی مدرسہ میں داخلہ مناسب رہے گا۔ چنانچہ مولانا امین الدین صاحب (حضرت کے ماموں ) خود مجھ کو کانپور ساتھ لے کر گئے۔ حضرت کی والدہ نے اس غریبی میں جوکچھ زادِ سفربن پڑا کچھ خشک روٹی کے ٹکڑے اور چنے ساتھ باندھ