واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
میں نے اپنا اصرار جاری رکھا اورعرض کیا کہ حاجی صاحب نے مجھے اس کام کیلئے بھیجا ہے اور ان کے کہنے کے مطابق انہوں نے میرا انتخاب اسی لئے کیا ہے کہ میں ہی اس کام کو انجام دے سکتا ہوں ، ورنہ پنکھا تو کسی کے بھی ساتھ آسکتا تھا، تو آخر میں مولانا نے دل کی بات کہہ ہی دی ، فرمایا آپ تو جانتے ہیں کہ یہاں عام طورپر اساتذہ کے پاس پنکھے نہیں ہیں ، یہ بات میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے کمرہ میں پنکھا لگالوں اوردیگراساتذہ کے کمروں میں پنکھے نہ ہوں جب سب اساتذہ کے کمروں میں پنکھے ہوجائیں گے میں بھی لگوالوں گا۔ فی الحال آپ اسکو دفتر میں رکھوادیں ، میں حاجی صاحب کے نام خط لکھ دوں گا آپ میرا خط پہونچادیں پھر مولانا نے حاجی صاحب کے نام ایک خط جس میں معذرت بھی تھی اور میری کوشش کا ذکر بھی تھا لکھ دیا۔اپنے ہاتھ سے غلاظت اٹھانا جامعہ کے سابق استاذمولانامحمدزکریا سنبھلی صاحب لکھتے ہیں کہ مدرسہ کا جنوبی دروازہ گاؤں کی طرف کھلتا ہے اس زمانہ میں گاؤں والوں کے جانور گائے بھینس بکری مرغی سب ہی مدرسہ میں آتے جاتے تھے کچھ اساتذہ بھی بکریاں اورمرغیاں پالتے تھے جنکی وجہ سے مدرسہ کے صحن میں برآمدوں اور چبوتروں میں گندگی ہوجاتی تھی اپنے کمرے کے سامنے کی مینگنیاں وغیرہ خود ہی حضرت جھاڑوسے صاف کرایا کرتے تھے ایک دن اسی دروازہ کے سامنے مدرسہ کی صحن میں کوئی گائے یا بھینس گوبر کرگئی حضرت نے دیکھا زیر لب کچھ ناگواری کا اظہار کیا اور دونوں آستین چڑھاکر اپنے ہاتھ سے اٹھانے کے لئے چلے میں ساتھ تھا میں نے جلد ہی اپنے ہاتھ سے اٹھالیا۔مولانا فرماتے رہ گئے ارے یہ آپ کیا کررہے ہیں اور میرے ہاتھ سے اسے اپنے ہاتھ میں لینا چاہا میں نے عرض کیا حضرت ہاتھ تو گندے ہوہی گئے آپ کیوں اپنے ہاتھ گندے کرتے ہیں میں نے وہ گوبر