واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
گرمی میں بجلی کا پنکھا کیوں قبول نہیں ؟ حضرت مولانا محمد زکریاسنبھلی مدظلہ کا بیان ہے کہ پبلک لانڈری لکھنؤ کے مالک جناب حاجی رفیق صاحب ایک دن میرے پاس عم محترم حضرت مولانا نعمانی کے دکان پر تشریف لائے اورتنہائی میں مجھ سے یہ ذکر کیا کہ مولانا صدیق صاحب کے کمرے میں پنکھا نہیں ہے ، مولانا کو بہت تکلیف ہوتی ہوگی میں نے پنکھا خرید لیا ہے خود پیش کرنے کی ہمت نہیں ہوتی، آپ ہتھورا چلے جائیں اورمولانا کی خدمت میں یہ پنکھا پیش کردیں ۔ مجھے امید ہے کہ مولانا آپ کے کہنے پر اسکے لئے تیار ہوجائیں گے کسی اور کو تو ہمت نہ ہوگی اور نہ مولانا کسی کے کہنے پر اسکے لئے تیار ہوں گے، میں ان دنوں دارالعلوم ندوۃ العلماء آچکا تھا لیکن باندہ آمدورفت کافی رہتی تِھی، میں قریبی جمعرات کو باندہ چلاگیا،جب مدرسہ پہونچا تو حضرت وہاں تشریف نہ رکھتے تھے میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور پنکھالگانے کیلئے حضرت کا کمرہ کھلوایا، لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ کمرہ کی چھت میں پنکھا لٹکانے کے لئے کنڈا نہیں ہے، بہت غوروفکر کے بعد بھی کوئی حل سمجھ میں نہیں آیا، اتنی ہمت نہ ہوتی تھی کہ چھت یا دیواروں کے اوپر حصہ میں توڑ پھوڑ کر کوئی کنڈا یا پائپ لگایا جائے اوراس میں پنکھا لٹکا دیں ، دوسرے دن حضرت تشریف لے آئے میں نے اپنی حاضری کا مقصد عرض کیا اورحاجی صاحب کی درخواست بھی اس صراحت کے ساتھ پیش کردی کہ پنکھا آپ کے لئے ہے ، مدرسہ کیلئے نہیں ہے پہلے تو مولانا نے وہی عذر کیا کہ کمرہ کی ِچھت میں کنڈا نہیں ہے، لیکن جب ہم لوگوں نے (میرے ساتھ اس کام میں وہاں مولوی منظور اور ایک دوشخص اور شریک تھے) اس کا متبادل ذکر کیا اوراپنی درخواست پر اصر ار کیا تو مولانا نے دوسری باتیں شروع کردیں کہ مجھے زیادہ گرمی نہیں لگتی ہے ، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں اسی کمرہ میں گرمی میں بھی سوجاتا ہوں وغیرہ وغیرہ لیکن