واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اٹھ کر پھر حضرت کو وضو کراتا ۔ حضرت مغرب بعد دیر تک اوابین پڑھتے ۔میں پیچھے بیٹھا رہتا درمیان میں کبھی پینے کا پانی مانگتے لیکن پیتے تھے صرف ایک گھونٹ گویا گلاس کو صرف منھ لگاتے اور بس میں یہی سمجھتا تھا کہ میری حاضری اور امتحان مقصود ہے کہ آیا میں موجود ہوں یا غائب ہوگیا ہوں ۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت ناظم صاحب (مولانا اسعداللہ صاحبؒ) چھلاہوا سیب تناول فرماتے میں حضرت کے لئے سیب چھیلتا تھا حضرت صرف سیب تناول فرماتے اور چھلکا پھینک دیا جاتا میرے دل میں آیا کہ یہ چھلکے میں ہی کھالیا کروں لیکن معاًدل میں آیا کہ نہ اس سے عادت خراب ہوگی کہ پھر دوسری اشیاء تک نوبت آئے گی بس چھلکے پھینک دیئے اور پھر اسکی ہمت نہ کی۔ (تذکرۃ الصدیق)تعلیمی مجاہد ے اور اسکے ثمرات ٭حضرت فرماتے ہیں کہ بسا اوقات میرے پاس چراغ کیلئے تیل کے بھی پیسے نہ ہوتے تھے تاکہ کتابوں کا مطالعہ کرسکوں ، مظاہر علوم میں اس وقت رات کو صرف ایک شمع (لالٹین کی مانند)روشن کردی جاتی تھی جورات بھر جلتی تھی۔ میں اس کی روشنی میں کھڑے کھڑے کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، ایک مرتبہ فرمایا کہ سڑک پر بجلی کے کھمبہ میں ایک بلب لگا ہوا تھا میں کھڑے کھڑے کئی گھنٹے اس کی روشنی میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا ، صابن کے پیسے میرے پاس مشکل سے ہوتے تھے۔ ٭ حضرت نے ایک مرتبہ فرمایا کہ پوری زمانہ طالب علمی میں ۲۴ گھنٹے میں دو گھنٹہ سے زائد نہیں سوتا تھا سر میں شدید درد ہوجاتا تھا اور اب بھی کبھی ہوجاتا ہے لیکن پہلے کی طرح نہیں ہوتا سخت درد کے حال میں بھی سارے کام کرتا تھا، ایک عادت سی بن گئی تھی۔ ٭ناشتہ کا کبھی معمول نہیں رہا: اس وقت ناشتہ کا کہیں کوئی نظم نہیں ہوا کرتا تھا