واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ایک غریب کی اعانت و ضمانت حضرت کی خدمت میں ایک غریب محتاج آدمی آئے ان کو خاطر خواہ امداد کی ضرورت تھی اورحضرت اقدس کے توسط سے لوگوں سے بطور قرض یا بطور بیع سلم کے کچھ رقم چاہتے تھے حضرت والا کو ان کی بات پر اعتماد تھا، حضرت نے مدرسین اور بعض گاؤں والوں کو جمع کرکے فرمایا کہ جو جتناکرسکتا ہو کردے، کچھ لوگ پیسہ دیدیں کچھ غلہ دیدیں یہ لے کربھاگیں گے نہیں جو کچھ لیں گے اسکی ضمانت میں لے رہا ہوں ، یہ نہ دیں گے تو میں اداکروں گا ایک ہزار میں نے بھی ان کو دیا ہے اور میں نے تو بغیر قرض کے یوں ہی دیا ہے۔غریب دیہاتیوں کی دلجوئی کار کے بجائے بیل گاڑی پر سفر قاری محترم مولانا ریاض مظاہری اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مولاناعلیہ الرحمہ مشکوٰۃ شریف کا درس دے رہے تھے کہ دوران درس چند مہمان بذریعہ کار مدرسہ حاضر ہوئے وہ حضرت کو لیکر ہمیر پور جانا چاہتے تھے حضرت نے درس سے فارغ ہوکر سفر کی تیاری کی کہ اچانک حضرت کے قریبی وطن ’’چھنیرا‘‘ سے ایک شخص بیل گاڑی لیکر حاضر ہوا اسکی بچی کا نکاح تھا حضرت مولانا بغیر کسی تکلف اس بیل گاڑی پر سوار ہوگئے اوراس شخص سے چھنیرا چلنے کو فرمایا کہ میں ابھی تھوڑی دیر میں حاضر ہوتا ہوں متعلقین نے ہر چند عرض کیا کہ حضرت کار کے ذریعہ تشریف لے جائیں ۔ گاڑی حضرت ہی کے لئے ہے لیکن حضرت نے کسی طرح اسکوقبول نہ فرمایا اوربیل گاڑی پر سوار ہوکر گاؤں چھنیرا تک گئے پھر نکاح میں شرکت فرماکر واپس تشریف لائے۔