واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
جمع کیا تھا اور لوگ واپس مانگ رہے تھے)وہ ہضم ہوجائے، مناظرہ سے چورن کا کام لینا چاہتے تھے، وہاں ، (کانپور میں ) بھی مناظرہ نہیں ہو ا البتہ اپنا جلسہ کرکے تقریریں کیں جو کہنا تھا کہہ دیا۔ (بشکریہ النور) مشتاق احمد صاحب نے بتایا کہ اصل سبب یہ ہوا کہ میں ان دنوں اسی علاقے میں ملازمت میں تھا، اورمشتاق صاحب بفضلہ تعالی اپنے مسلک کے سرگرم اور پختہ آدمی ہیں تو ان سے ان لوگوں کی برابر نرم و سخت بات ہوتی رہتی تھی، بہر حال ان لوگوں نے مشتاق صاحب سے مناظرہ کی بات کہی اور حضرت کو بلانے کی تو انہوں نے جوش میں نہ صرف ہاں کرلیا بلکہ کاغذ پر لکھ دیا اور تاریخ بھی طے کردی موقع ایک شادی کا تھا چنانچہ جب طے ہی ہوگیا تو حضرت تشریف لے گئے مگر جیسا کہ ذکر آیا ہے پیر صاحب گھماپھراکر اس پر لائے کہ اس وقت مناظرہ ممکن نہیں ، حج کے بعد ہوگا۔ یہ واقعہ نومبر ۱۹۶۶ء کا ہے۔ (تذکرۃ الصدیق،ص:۲۷۰)ایک صاحب کی خاموش اصلاح حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے قصبہ جہان آباد کے قرب و جوار کے ایک سفر میں دوران سفر ایک بھٹہ والوں کے یہاں رُک کر ملاقات کی اورآگے چلدیئے وہ بھٹہ والے متدین ومتشرع ایک نیک سیرت عالم معلوم ہوتے تھے، حضرت نے ان کے متعلق اپنے رفقاء سفر سے فرمایا کہ کوئی بتلا سکتا ہے کہ پہلے یہ کیسے تھے اور اب کیسے ہیں ، نہایت متقی، دیندار، شکل صورت سے عالمِ دین معلوم ہوتے ہیں ، چہرہ پر داڑھی اب ان کے آگئی ہے ورنہ ایک زمانہ وہ تھا کہ نماز و روزہ سے ان کا دورکا بھی تعلق نہ تھا بالکل آزادزندگی تھی،اور میرا گذرنا بار بار اسی راستہ سے ہوتا تھا میں جب بھی یہاں سے گذرتا یہاں آکر کسی نہ کسی