واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ہتھوڑا میں جامعہ ، جنگل میں منگل حضرت کا مدرسہ اب تو ایک عظیم الشان قلعہ معلوم ہوتا ہے جس وقت مدرسہ کا دسواں حصہ بھی تعمیر نہیں ہوا تھا اسی وقت مولانا عبدالماجد صاحب دریابادی نے مدرسہ دیکھ کر تحریر فرمایا تھا ’’اللہ اکبر!‘‘ گاؤں کتنا چھوٹا، مدرسہ کتنا بڑا، اللہ کے دین کے قلعے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اللہ کے بندوں نے تعمیر کردیئے ہیں بالکل جنگل میں منگل معلوم ہوتا ہے لیکن یہ عمارتیں کیسے بنی ہیں موجودہ دور میں اسکا تصور بھی مشکل ہے۔ مدرسہ کی تعمیر کے لئے خود چھوٹا سا ایک بھٹہ لگایا جاتا تھا اس میں ہر ہر مرحلہ پر خود حضرت ؒ اوراساتذہ و طلباء کام کرتے تھے پھر تعمیر کے کام میں حضرتؒ کے ساتھ اساتذہ و طلباء بالکل مزدوروں کی طرح لگ جاتے تھے مورنگ اور سیمنٹ کے مسالے سے ہاتھوں پاؤں میں گہرے زخم ہوجاتے تھے۔ یہ جو قلعہ نما عمارت بنی ہے اس میں بلامبالغہ حضرت اور حضرت کے مدرسہ کے کتنے ہی اساتذہ و طلباء کا پسینہ ہی نہیں خون بھی شامل ہے۔ مدرسہ کے قریب ایک نالہ ہے برسات میں اسکا پانی اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے کنکر بڑی مقدار میں بہالاتا ہے اور کنکر خاص جگہوں پر نالے کے کنارے جمع ہوجاتے ہیں ،پتھر کی تعمیر میں چونے کے ساتھ ملا کر یہ کنکر استعمال کئے جاتے ہیں حضرت ؒ اس بات سے بہت واقف تھے کہ نالے کے کس کس موڑ پر کنکر زیادہ ملتے ہیں پھر ان کوجمع کرنا اورڈھونا بھی خود جانتے تھے طلباء کو لیکر خود نالے پر تشریف لے جاتے طلباء کے ساتھ کنکر جمع کرتے ان کو ٹوکریوں میں کرکے خود ڈھوتے اور بیل گاڑی پر لادکر لاتے تھے حضرت کے ساتھ کام کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا، سب ہی لوگ حضرتؒ سے بھی بے تکلف تھے بلکہ بعض طلباء تو جو پرانے ہوچکے تھے حضرت سے چھیڑ چھاڑ بھی کرلیتے تھے، ایسا پیارا اور محبوب مربی نہ دیکھانہ سنا ۔ لطیفے بھی ہوتے تھے حضرت ہنستے ہنساتے بھی تھے، ایسی حسین ہنسی اور اتنے خوبصورت دانت کم ہی دیکھے ہونگے۔ تعمیر کے سلسلہ میں سب