واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
مگر آٹھ سال تک زیور نہیں ملا۔ جب بھی حضرت سے ذکر کیا جاتا فرماتے۔ صبر کرو مل جائے گا۔ خدا کی شان آٹھ سال کے بعد ایک دن حیرت انگیز طریقے پر پورے کا پورا زیور مل گیا۔ (ا ز مولانا ذوالفقار ۔ استاذ فلاح دارین ترکیسر گجرات)زہر کا اثر ختم جامعہ کے اولین چھ طلباء میں سے ایک جناب مولانا صوفی اظہار الحسن صاحب (جو جامعہ کے قدیم کارکنوں میں سے بھی ہیں ان) کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ دھان اور تیل کے لئے ہتورا سے کچھ دور ایک بستی تک جانا ہوا، تو رات کوادھر ہی قیام ہوگیا، غیر مسلموں کا گاؤں تھا، وہاں کھانے کا نظم یہ ہوا کہ چکی سے تیل مل گیا تو اسی سے ترکاری اور پوڑیاں تیار کی گئیں ، اتفاق سے تیل میں زہر ملا تھا۔ اس میں ایک چھپکلی مرگئی تھی، زہر کے اثر سے سب کو دست آنے لگے۔ حضرت بھی تھے اور طلباء ، نیز گاؤں کے بھی کچھ حضرات تھے تو سب پریشان تھے حضرت نے پانی دم کر کے دیا، سب نے پیا اور الحمد ﷲسب کی تکلیف ختم ہوگئی۔ایک لمحہ میں افاقہ ایک بار آپ کے مرشد حضرت مولانا اسعدااللہ صاحب کے بدن پر چھالے نمودار ہوگئے جن میں بہت زیادہ سوزش اور جلن تھی قاری صاحب نوراللہ مرقدہ سے فرمایا کہ کچھ پڑھ کر دم کردو، آپ نے شیخ کے حکم پر دم کردیا، ایک گھڑی میں سارے آبلے ختم ہوگئے ایک بار مولانا اسعداللہ صاحب آنکھ کا آپریشن کرانے سیتا پور گئے، آپ کو کھانسی کا عارضہ تھا ، جو کسی علاج سے دور نہیں ہوتا تھا، پھر شیخ نے اپنے مرید حضرت والاؒ سے فرمایا کہ کچھ پڑھ کر دم کردو، آپ نے دم کیا جس سے بالکل افاقہ ہوگیا۔