واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کوئی ضرورت نہیں ، میں نے سب کو معاف کیا، کچھ تو اللہ کے رسولﷺ کی سنت اداہوا ور یہ ہو کہ ہم تو ذکر رسولﷺ پاک سنارہے تھے اورلوگ پتھر ماررہے تھے۔‘‘ (تذکرۃ الصدیق ) بار ہا یہ نوبت آئی ہے کہ بیان کے دوران ناسمجھ مخالفوں نے پتھر پھینکے، وعظ بند کرانا چاہا، لیکن آپ نے وعظ منقطع نہیں کیا بلکہ اور شدت سے بیان کرنے لگے اور یہ فرمایا کہ ان بیچاروں کو یہی تعلیم دی گئی ہے اس سے زیادہ نہیں جانتے، ہمکو دشمن رسول سمجھ کر ایسا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کے خلاف ہے۔ میرے جانے کے بعد ان لوگوں سے مزاحمت نہ کرنا اللہ ان کو سمجھ عطا فرمائیں ، یہ تو سیرت کا بیان ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے، جب صاحب سیرت کے ساتھ اس قسم کے معاملے ہوئے ہیں تو ہم کیا ہیں ۔ سیرت بیان کرنے والوں کو پتھر کھانا پڑے گا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے، سیرت بیان کرنے والے پتھر سے محروم ہوجائیں ۔گھوڑے سے گرنے کا واقعہ حضرت کشمیر کے سفر پر جب تشریف لے گئے تو وہاں ایک مقام تک جانے کے لئے گھوڑے کا نظم کیاگیا، حضرت اسی پر سوار ہوکر روانہ ہوئے، ساتھ میں مجمع زیادہ تھا، لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑرہے تھے بس گھوڑا بدک گیا اورحضرت گھوڑے سے نیچے آگئے جس کی وجہ سے پیر میں کچھ چوٹ بھی آئی، اب سارے داعی و میزبان پریشان اور ان پر سناٹاطاری ہوگیا کہ یا اللہ یہ کیا ہوا۔ لیکن حضرت نے اٹھتے ہوئے فوراً ہی فرمایا: ’’حضور اقدسﷺ بھی ایک مرتبہ گھوڑے سے گرے تھے اور پیر مبارک میں چوٹ آئی تھی آج اس سنت پر عمل ہوا۔‘‘ سبحان اللہ ! کیا جذبہ تھا سنت کی متابعت اورنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے موافقت کا، یہ فرما کر اپنے لئے راحت کا اورخدام کے لئے مسرت کے احساس کا سامان پیدا کیا۔ (تذکرۃ الصدیق)