واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
لکھنؤ اور مظفر پور کی طالب علمی راس نہ آئی ایک مرتبہ حضرت اقدس ؒنے لکھنؤ اور مظفر پور بہار کی طالب علمی کا واقعہ خود ہی بیان فرمایا کہ جب میں لکھنؤ پہونچا داخلہ بھی لے لیا۔ میرے درجہ کے جوساتھی تھے ان کا حال بھی عجیب وغریب تھا آزاد طبیعت ، لباس بھی نہایت پرتکلف، خلاف شرع بال بڑے بڑے ہر وقت کھانے پینے کی باتیں اور سیرو تفریح کا مزاج، فیشن کے دلدادہ، مطالعہ سے مطلب نہ تکرار سے، اسباق کا ناغہ بھی کثرت سے ہوتا تھا میں نے سوچا کہ اے اللہ یہاں کہاں آکر پھنس گیا، ان کیساتھ تو میرا نباہ دشوار ہے اس لئے چند روز رہ کر کسی طرح جلدی وہاں سے واپس آگیا، البتہ ان چند دنوں لکھنؤ رہ کر اپنے اوقات کوضائع نہیں فرمایا بلکہ خالی اوقات میں آپ نے وہاں کے کتب خانوں کی سیر کی، اور بڑی عمدہ نایاب کتب اسی وقت کی خریدی ہوئی حضرت کے پاس محفوظ تھیں ۔ مظفر پور(بہار) کی زمانہ طالب علمی کا قصہ حضرت نے اس طرح بیان فرمایا کہ جب میں وہاں پہونچا تو میرا داخلہ ہوگیا، تعلیم بھی اچھی ہورہی تھی لیکن وہاں کی آب وہوا وغذا میرے موافق نہ آئی ، وہاں کھانے میں چاول ہی چاول ہوتے تھے میں اسکا عادی نہ تھا، میری طبیعت خراب ہوگئی پیٹ پھول گیا اس لئے وہاں سے بھی جلدی آنا پڑا۔ (حیات صدیق) (یہ اسفار مظاہر علوم سے فراغت کے بعد معقولات کی تکمیل کی غرض سے حضرت نے فرمائے تھے اسکے علاوہ مراد آباد ٹونک الہ آباد وغیرہ بھی معقولات کی اعلی کتابوں کی تحصیل کے لئے حضرت تشریف لے گئے چنانچہ حضرت کومعقولات میں بڑا ملکہ تھا اور وہ کتابیں جنکے اب علماء لوگ نام بھی نہیں جانتے وہ حضرت نے بڑی محنت سے پڑھیں تھیں )