واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
بچپن کی غربت کا واقعہ حضرت اپنے بچپن کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ گاؤں میں اتنی غربت تھی کہ عام طورپر بچوں کو صبح ہی بکریوں کی طرح جنگل کو نکال دیا جاتا تھا بچے صبح سے شام تک جنگل میں رہتے۔ جس زمانہ میں گولریا اس جیسی چیزیں ملتیں ان سے پیٹ بھرلیتے۔ جنگلی بیروں کے زمانہ میں دن بھر وہی کھاتے پھرتے جب چنے کا ساگ کھانے کے قابل ہوتا تو وہی پیٹ بھرنے کا ذریعہ ہوتا اورشام کو گھر چلے آتے۔ دوسرے دن بھی یہی ہوتا اسکے بعد فرماتے تھے کہ چونکہ میں حفظ کرتا تھا اس لئے مجھے روٹی ملتی تھی ، میری دو چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں ان کو بھی عام بچوں کے ساتھ صبح ہی گاؤں سے باہر بھیج دیا جاتا ، میں اس پر روتا تھا اورکہتا تھا کہ میں اپنی روٹی میں ان کو شریک کرلوں گا۔ لیکن میری ایک نہ چلتی تھی یہ واقعہ جب بھی حضرتؒ نے سنایا ہمیشہ آبدیدہ ہوجاتے اور آواز گلے میں پھنس جاتی تھی، یہ دونوں بہنیں کم عمری ہی میں انتقال کر گئی تھیں ۔ (مولانا محمدزکریاسنبھلی)بچپن کا خواب ، میدان محشر کی زیارت مفتی محمد زید صاحب مد ظلہ حضرت کا ارشاد فرمودہ واقعہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت والا نے فرمایا کہ میں نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ میدان محشر قائم ہے، سارے لوگ جمع ہیں ، خوف و ہراس کا منظر ہے، نفسی نفسی کا عالم ہے۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہے اور رب ذوالجلال کی عدالت قائم ہے ، جبرئیل امین اوردوسرے فرشتے خاص قسم کی وردی پہنے ہوئے ہیں ، اورایک ایک کرکے سب کی پیشی ہوتی جارہی ہے اس مجمع میں میں بھی موجود ہوں اور بہت ڈر رہا ہوں نہ معلوم میرا کیا انجام ہو اتنے میں میری پیشی کا وقت آہی گیا ۔ مجھ کو سامنے لاکر کھڑا کیا گیا، معائنہ ہوا اور میرے لئے حکم یہ صادر ہوا کہ جاؤ ابھی اور تیاری کرو، کچھ کرکے آؤ، حضرت نے خواب میں جس بات کا حکم پایا اسکی تعمیل