واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
غالباً لکھنؤ کسی تقریب میں حضرت مولانا علی میاں وغیرہ دیگر علماء بھی اسٹیج پررونق افروز تھے، بیانات کا سلسلہ چل رہا تھا تصویریں بھی لوگ موقع پاکر دبے پاؤں کھینچنے لگے حضرت والا کو ایمانی جوش آیا حضرت نے للکار تے ہوئے فرمایا کہ شرم نہیں آتی یہاں اکابر موجود ہیں ان کے سامنے یہ حرکت! ذرا بھی احساس نہیں ، اگر یہ حضرات کچھ نہیں کہتے تو اسکا کیا مطلب آخر ان کے دلوں سے پوچھئے تمہاری ان حرکتوں سے ان کے دلوں پر کیا بیت رہی ہے کیا وہ تمہارے اس عمل سے خوش ہیں اس طرح ڈانٹتے ہوئے آپ خفا ہوکر اسٹیج سے جانے لگے لوگوں نے منایا معافی مانگی تصویر والے کو لوگوں نے رگیدا تب کہیں جاکر حضرت ٹھنڈے ہوئے یہ ہے ایمانی غیرت وایمانی فراست کہ حق بات بھی کہہ دی اور عوام کو اکابر سے بدگمان ہونے سے بھی بچالیا۔غریبوں بیواؤں کیلئے نظم ِ زکوۃ حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد ندوی مدظلہ فرماتے ہیں کہ جس اسپتال (سحر نرسنگ ہوم لکھنؤ) میں حضرت کاوصال ہوا چند سال قبل اس اسپتال میں حضرت زیر علاج تھے میں عیادت کیلئے حاضر خدمت ہوا، تو انتہائی درد و کرب کے انداز میں فرمایا کہ مولوی سجاد! اجتماعی زکوٰۃ وصولی کی فکر کرو، مہم چلاؤ اوراس کو بیواؤں ، یتیموں ، غریبوں ، مستحقین تک پہنچانے کا نظم بناؤ ساری زکوٰۃ کا پیسہ مدارس ہی میں لگنا ضروری نہیں ہے آج بیوائیں ، آدھی آدھی روٹی ، ایک ایک لقمہ ، نان شبینہ کے لئے اپنا جسم فروخت کررہی ہیں دامن عفت و عصمت کو تار تار کررہی ہیں ، پھر مولانا سجاد صاحب نے فرمایا کہ ہمیشہ اپنے درد و غم کو چھپاتے، لیکن تاب نہ لاسکے، اپنا رومال آنکھوں سے لگاکر سسکیاں لے لیکر ہچکیاں لے لے کر آدھے گھنٹہ تک روتے رہے، سچ یہ ہے کہ حضرت ہمیشہ امت کی فکر میں اپنے کو گھلاتے رہتے او ر جو بن پڑتا کرتے رہتے تھے۔