واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے علم کا معتقد میں اسی وقت سے ہوں بزرگی کا معتقد تو بعد میں ہوا ہوں ، بیان القرآن دیکھنے ہی کی برکت سے ہر امتحان میں اعلی نمبرات سے پاس ہوتا رہا۔ واقعی بیان القرآن ایسی تفسیر ہے کہ اسکو نصاب میں داخل کیا جائے اور سبقاً سبقاً اسکو پڑھایا جائے۔ ایک مرتبہ اپنے ساتھی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم دونوں ساتھ رہتے لیکن ایک بات بھی فضول نہ کرتے وہ اپنے کام میں لگے رہتے میں اپنے کام میں ایک مرتبہ میرے ساتھی نے مجھ سے کہا کہ صدیق اگر ہم لوگ قسم کھالیں کہ دن بھر میں ایک بات بھی فضول نہیں کرتے تو انشاء اللہ حانث نہ ہوں گے۔ (حیات صدیق) حضرت فرماتے ہیں کہ ان کا معمول تھا کہ فجر کے وضو سے عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ان کودیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا اور میں نے بھی ان کی ایسی ریس کی اور چند روز فجر کے وضو سے عشاء کی نماز پڑھی لیکن میں تو بیمار ہوگیا ، میں نے بطور مذاق کے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان صوفیوں کا حال عجیب ہے ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتا سنت سے تو یہ ثابت نہیں کہ فجر کے وضو سے عشاء پڑھو اور نہ یہ کوئی کمال کی بات ہے سنت سے تو یہ ثابت ہے کہ اگر وضوہے تب بھی وضو کرو یہ کوئی کمال نہیں کہ ایک وضو سے کئی وقت کی نماز پڑھے اگر یہ کوئی کمال کی بات ہوتی تو حضور ﷺ بھی اس طرح کرتے حالانکہ آپ کا یہ معمول نہیں تھا اگر کسی بزرگ نے ایسا کیا ہو تو وہ ان کا حال ہوگا جوحجت نہیں ، کسی بزرگ کے اقوال واحوال اور ان کے اصول وکیفیات کوئی شریعت کا مسئلہ نہیں بن جاتے شریعت تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل کا نام ہے۔اساتذہ کی خدمت کے واقعات حضرت اقدس رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ اپنے اساتذہ کی خوب خدمت کی ہے، حضرت کے سب سے پہلے استاذ دادا مرحوم تھے حضرت تاحیات ان کی خدمت میں حاضر