واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اطراف کے طلباء کی رعایت کا ایک واقعہ ضلع باندہ اور اسکے قرب و جوار کے دیہات میں مسئلہ صرف علم اور دینداری کے نہ ہونے کا نہیں تھا بلکہ اسلام کی بقا اور عدم بقاء کا مسئلہ تھا۔ اس لئے مولانا ان دیہات کے طلباء کی بہت رعایت کرتے تھے۔ یہ طلباء اگر مدرسہ میں پڑے رہیں خواہ پڑھنے لکھنے کی طرف زیادہ توجہ نہ دیں تب بھی مولاناؒ کو ان کا قیام منظور تھا۔ میں اپنی کوتاہ نظری سے کبھی کبھی ایسے نہ پڑھنے والے طلباء کی بابت کچھ نامناسب گفتگو بھی حضرت ؒ سے کرلیا کرتا تھا۔ ایک طالب علم لال محمد تھا، بالکل نہ پڑھتا تھا ، کئی بار کہا کہ حضرت اسکو گھر بھیج دیجئے ، حضرت ٹال دیتے ، ایک دن فرمانے لگے لوگ کہتے تھے لال محمد نہیں پڑھ پائے گا دیکھئے اسکا قرآن مجید ناظرہ ختم ہوگیا۔ میں سمجھ گیا مخاطب میں ہی ہوں میں نے عرض کیا اس نے پانچ سال میں صرف ناظرہ قرآن ختم کیا ہے میرے نزدیک مدرسہ کی رقم کسی طالب علم پر صرف ناظرہ کیلئے پانچ سال تک خرچ کرنا جائز نہیں ، حضرت ؒ کا جملہ ہمیشہ یاد رہے گا۔کس قدر شان جلالی کے ساتھ ِفرمایا مولانا! اپنے گاؤں میں اسلام کو سمجھنے والا صرف لال محمد ہوگا، اس علاقہ کے لڑکے یہاں پڑے رہیں خواہ ایک لفظ نہ پڑھیں تب بھی مجھے گوارا ہے ، میں سچ عرض کرتا ہوں ، بالکل ایسا محسوس ہوا کہ میری آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا اس جملہ سے وہ سامنے سے ہٹ گیا مجھے اپنی وہ کیفیت بھی ابھی تک یاد ہے بہت دیر تک اپنی کوتاہ بینی اورحضرت کی نگاہ کی دوررسی کوسوچتا رہا اس اللہ کے بندے کی نگاہ ہر وقت کہاں کہاں رہتی ہے ہم لوگ تو غوروفکر کے بعد بھی وہاں تک نہیں پہونچ سکتے۔ (مولانا محمد زکریا سنبھلی ندوہ لکھنؤ)ابتدائی زمانہ کی تنگی میں اہلیہ مرحومہ کی قربانی مدرسہ کے ابتدائی دور میں جب مدرسہ میں لڑکے بہت کم تھے تو تیس پینتیس