واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
حدیث کا سراپا مصداق ایک بار ایک مدرسہ کے جلسہ میں بارہ بجے رات تک شریک رہے وہاں سے اُٹھے تو ایک صاحب اپنے گھر لے گئے وہاں سے گاڑی پر بیٹھے تو دو بجے رات کو دوسرے صاحب اپنے گھر لے گئے حضرت کی دلداری ہے کہ ہر ایک کے گھر بے تکلف جارہے ہیں پھر اٹھے تو ڈیڑھ گھنٹہ پر چل کر ایک قصبہ میں پہنچے، سارا قصبہ چشم براہ تھا لوگ انتظار اور شوق میں رات بھر سوئے نہیں تھے، ایک قافلہ قصبہ سے ایک کلو میٹر پہلے منتظر تھا، حضرت کی گاڑی گذرگئی، وہ لوگ دوڑ پڑے، اور بھی قافلے جگہ جگہ راستہ دیکھ رہے تھے، حضرت قصبے کے اندر پہنچے تو پورا قصبہ مصافحہ کے لئے ٹوٹ پڑا کہاگیا کہ بعد میں مصافحہ ہوگا ابھی حضرت کو تھوڑی دیر آرام کرنے دیں ، لوگ رک گئے، حضرت کمرے کے اندر تشریف لے گئے، باہر عشاق کا ہجوم تھا، حضرت نے ایک رفیق سفر سے کہا کہ مجھے تھوڑی مہلت مل جاتی رفیق سفر نے کہا کہ حضرت آپ آنکھ بند کرکے لیٹ جائیں آگے میں سمجھالوں گا اتنا سنتے ہی حضرت بلاتامل اور بلاتاخیر آنکھ بند کرکے لیٹ گئے، اب اس رفیق نے سمجھایا کہ حضرت سوگئے ہیں ، آپ لوگ اب دروازہ چھوڑ دیں ہجوم ختم کردیں لوگ ہٹ گئے اور حضرت واقعتاً نیند سے سوگئے مگر شاید پندرہ منٹ گزرا ہو کہ حضرت تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے وہ رفیق ہکا بکا ہوگئے حضرت آرام کیجئے، مگر اب آرام کہاں ؟ وضو کیا اور ہاتھ باندھ کر نماز میں مشغول ہوگئے، اللہ کی وہ محبت دل میں تھی کہ نیند کو وہ اڑادیاکرتی تھی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:کہ اللہ تعالی تین شخصوں سے بہت محبت فرماتے ہیں ان میں سے ایک شخص کا حال آپ نے بتایا کہ قوم ساروالیلتہم حتی اذا کان النوم احب الیھم مما یعدل بہ فوضعو ا رؤوسہم فقام ویتملقنی ویتلو آیاتی(مشکوۃ)