واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
سے کھل کر انکار ومخالفت بھی نہ کرسکتے تھے۔ حضرت ناظم صاحب کی رائے وہی تھی بہر حال حضرت نے سہارنپور جانا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے حضر ت ناظم صاحب کی رائے کے برعکس حضرت چلے ہی آئے چند سال بعد ناظم صاحب نے حضرت کی رائے کوہی درست قرار دیا۔سعودی کی مدرسی سے گریز حضرت اقدس ؒ نے اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ سعودی حکومت میں مجھے ایک مدرسہ میں مدرسی کی جگہ مل رہی تھی لیکن میں نے اس وجہ سے قبول نہ کیا کہ ہندوستان میں اور اپنے علاقہ میں دین کی اشاعت کی ضرورت زیادہ ہے اور فرمایا کہ صحابہ عرب سے دنیا کے ملکوں ملکوں میں دین پھیلانے کیلئے نکل گئے حضرت نے افسوس کے ساتھ فرمایا کہ جتنا سمجھدار پڑھا لکھا ذی استعداد طبقہ ہے وہ تو ہاتھ لگتا نہیں سب سعودیہ اور دوبئی چلے جاتے ہیں جنکو کچھ نہیں آتا جو بالکل کوڑا ہیں اکثر وہی یہاں رہ جاتے ہیں کیسے کام چلے بہت بڑا خلا ہوتا جارہا ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے ایسے ایسے لوگ جنکے اندر شیخ الحدیث بننے کی صلاحیت ہے وہ سعودیہ جاکر گدھے چرارہے ہیں اوراس پر خوش ہیں کوئی جاکر امامت کرتا ہے کوئی ٹیوشن پڑھاتا ہے، میں اسکو ناجائز حرام نہیں کہتا لیکن اللہ نے جسکو صلاحیت دی ہے جو دین کا کچھ کام کرسکتا ہے۔ اسکو تو یہیں کام کرنا چاہئے یہ تو نعمت کی بڑی ناقدری ہے کہ علم دین کو صرف دنیا کمانے کیلئے استعمال کیا جائے۔ (افادات صدیق)سادی شادی کا قصہ حضرت اپنی شادی کا واقعہ سناتے ہیں کہ اس وقت ہلو نامی ایک بزرگ جوپورے علاقہ کے پیر سمجھے جاتے تھے مانکپور اوراس کے اطراف میں ان کا حلقہ وسیع تھا،