واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
وہاں یہ کہہ دینا چاہئے کہ آپ لوگ بس اتنا کردیں کہ مسالہ پسوادیجئے ، چٹنی کا انتظام کردیجئے ، باقی انتظام ہم خود کریں گے ان کا بھی جی خوش ہوجائے گا۔ (افادات صدیق)تعلیم چھوڑ کر تبلیغ ؟ مدرسہ یا چلہ؟ حضرت کی خدمت میں ایک مولوی صاحب تشریف لائے جوحضرت سے بھی تعلق رکھتے تھے اورایک مدرسہ میں بچوں کو پڑھاتے بھی تھے۔ کچھ عرصہ سے مدرسہ بند کرکے ۴ماہ کیلئے جماعت میں تشریف لے گئے تھے اور اب حضرت کی خدمت میں بیعت کیلئے حاضر ہوئے، چنانچہ بیعت کی درخواست کی حضرت کوپورے حالات کا علم ہوا، حضرت نے ناگواری کیساتھ فرمایا کہ آپ کے اندر مستقل مزاجی نہیں کبھی کچھ کرتے ہیں کبھی کچھ کرتے ہیں کام اس طرح نہیں ہوتا کبھی ادھر کبھی ادھر، مجھ سے بیعت ہونے کیلئے آتے ہیں پہلے بات ماننے کا جذبہ پیدا کیجئے، کرتے ہیں منمانی اوربیعت ہونے کیلئے آتے ہیں مدرسہ بند کرکے جماعت میں جانے کیلئے کس نے آپ سے کہا تھا اورکس سے پوچھ کرگئے تھے میں آپ کو بیعت نہیں کروں گا، کیا مدرسہ چلانا دین نہیں ہے، مدرسہ میں کیا سکھایا اورپڑھایا جاتا ہے وہ دین کی تبلیغ نہیں ہے، وہ بھی تو تبلیغ ہی ہے ، کیا میں تبلیغ کا حامی نہیں ہوں ، تبلیغ کے فروغ کیلئے کیا میں کوشش نہیں کررہا ہوں مدرسہ کیساتھ بھی تو تبلیغ کا کام ہوسکتا ہے۔ ایک عمر رسیدہ حضرت کی خدمت میں ایک دیہات سے بیعت کیلئے آئے اور حضرت سے بڑی لجاجت کے ساتھ بیعت کی درخواست کی حضرت نے مسکراکر فرمایا کہ پہلے اپنے یہاں مدرسہ قائم کرو تب بیعت کروں گا، ان صاحب نے کہا کہ تنہا میں بچوں کو مسجد میں پڑھاتا ہوں حضرت نے فرمایا نہیں مدرسہ قائم کیجئے وہ صاحب تیار ہوگئے حضرت نے فرمایا ٹھیک ہے انشاء اللہ بیعت کرلوں گا۔