واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
مولانا کو پہلے کھانا کھلاؤ اسکے بعد رخصت کرویہ بہت نیک مقصد کے لئے نکلے ہیں بندہ ابھی اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ قریب میں ایک کاغذ پاکر حضرت نے مصافحہ کا سلسہ بند کرکے کچھ لکھنا شروع کیا وہ تحریر کیا تھی حضرت مولانا قاری سید عثمان صاحب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام حوصلہ افزائی اورمجھ ناچیز کو وہاں بھیجنے کا شکریہ اور دعاؤں سے بھر پور ایک خط تھا، حضرت نے یہ خط لکھ کر بندہ کے حوالہ فرمایا اسکے بعد پھر ملاقاتیوں کے طرف متوجہ ہوئے۔ایمانی جرأت وبیباکی کے واقعات ایمرجنسی کے زمانہ میں نسبندی کا ہنگامہ چل رہا تھا ، جواز کے فتویٰ کے لئے بڑے بڑے علماء پر اندرا گاندھی کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا تھا اس زمانہ میں حضرت والا باندہ شہر کی جامع مسجد میں معتکف ہوگئے، علاقہ میں حضرت والا کی گرفتاری کی افواہ اڑرہی تھی، مسلم وغیر مسلم گاؤں دیہات سے بھی آکر بھیڑ لگارہے تھے، اندرا گاندھی نے وزیر اعلی اترپردیش کو حکم دیا تھا اور وزیر اعلی نے کانپور کے اعلی آفیسر کو حکم دیا تھاکہ از خود جاکر بابا جی سے زبانی و تحریری جواز کا فتویٰ حاصل کرلیں ۔ چنانچہ کانپور سے اعلی سر کاری عملہ سینکڑوں کی تعداد میں دسیوں گاڑی میں باندہ پہنچ گیا اور باندہ کلکٹر ڈی ایم وغیرہ کو ساتھ لے کر باندہ کی جامع مسجد میں پہونچ گئے، چند بڑے بڑے آفیسر گفتگو کے لئے مسجد کے اندر داخل ہوگئے حضرت والا سے سوال کیا کہ نسبندی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ، حضرت نے فرمایا کہ حضرت مولانا علی میاں صاحب حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث اور حضرت مولانا اسعداللہ صاحب ناظم مظاہر علوم سہارنپور ، حضرات میرے بڑے ہیں یہ لوگ جو کہتے ہیں ، میں بھی وہیں کہتا ہوں ، اس پر کانپور اور لکھنؤ سے آئے ہوئے آفیسروں نے کہا