واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
یہی ہے اس کے بعد مجلس زیادہ دیر نہ چلی اور اس مسئلہ میں غالباً کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ہم لوگ مجلس والے کمرے سے نکل آئے اور فوراً ہی میں نے مولانا نفیس اکبر صاحب سے اپنے جملہ اور طرز عمل کی معذرت کی مولانا نے فرمایا کہ میں نے بھی پورا جواب دے دیا تھا اس میں معذرت کی کیا بات ہے بہر حال ہم دونوں کے دل بالکل صاف رہے اوراسی طرح بشاشت اور محبت و شفقت کے ساتھ ملتے رہے۔ لیکن حضرت کو بظاہر اسکا خیال رہا چند دن کے بعد مجھے کسی کام سے لکھنؤ آنا تھا آتے وقت جب حضرت سے ملاقات کیلئے حاضر ہوئے تو فرمایا کہ مولانا نفیس اکبر صاحب سے مل لئے؟ اس طرح کا سوال بالکل نیا تھا میں نے عرض کیا مولانا سے ملاقات تو نہیں ہوئی فرمایا مل لیجئے۔ میں وہاں سے آیا اور مولانا نفیس اکبر صاحب سے ملاقات کرلی لیکن ذہن نے آگے کچھ کام نہیں کیا، جب لکھنؤ سے واپس آیا اور حضرت سے ملاقات ہوئی تو حضرت نے پھر وہی بات کہی کہ مولانا نفیس اکبر صاحب سے مل لیجئے گا اب میرے ذہن میں یہ بات کہ شاید حضرت یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم دونوں کے دلوں میں کچھ میل ہے اور چونکہ غلطی میری تھی اور میں ہر طرح چھوٹا بھی تھا، اس لئے حضرت یہ ِچاہتے تھے کہ صفائی میں کروں جب میں نے یہ سمجھ لیا تو کئی بار حضرت کے سامنے مولانا نفیس صاحب کے ساتھ اپنے حسن تعلق کا عملی و قولی اظہار کردیا بس وہ مطمئن ہوگئے۔ برسوں بعد میں نے اس پورے واقعہ کا ذکر حضرت سے کیا تو سن کر بس مسکرائے۔مولوی نما تدریس کے شوقین صاحب اور حضرت کی کرم فرمائی کسی دیہات سے مولوی نما ایک صاحب حضرت ؒ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا کہ فلاں گاؤں میں مدرسہ میں پڑھانے کیلئے مجھے بھیج دیجئے حضرت نے فرمایا قرآن پاک اور اردو لاؤ کچھ سناؤ کیسا پڑھتے ہو ایک مدرس بھی موجود تھے، ان سے کہا ان کا سنئے، سنا نے پر معلوم ہوا کہ ان کو اردو پڑھنا بھی نہیں آتا، حضرت نے ان سے فرمایا ہجّے لگاؤ،