واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
ایمر جنسی کے زمانہ میں ایک نکتہ اور کرامت ملک میں ایمرجنسی کا دور تھا، جبری نسبندی کے عنوان پر مسلمانوں میں مظالم ڈھائے جارہے تھے، حکومتی سطح پر تائید میں نام نہاد مسلمانوں کے بیانات شائع کئے جارہے تھے اور کوشش یہ کی جارہی تھی کہ جائز یا ناجائز تخویف و ترغیب کے ذریعہ ہر عالم یا ذی حیثیت مسلمان سے تائید حاصل کی جائے موقع و مفاد پرست لوگ بڑھ چڑھ کر تائیدی بیانات جاری کرنے میں حصہ لے رہے تھے اس وقت کے صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد بھی کسی سے کم نہ تھے ان حالات کا حضرت پر بہت اثر تھا، مولانا احمد عبداللہ طیب مدظلہ فرماتے ہیں ایک دفعہ جمعہ کے دن حسب معمول بعد نماز فجر شرح جامی پڑھارہے تھے ہمزۂ استفہام کا بیان آگیا کہ وہ صدارت کلام کو چاہتا ہے بس حضرت کا ذہن صدارت کی کرسی کی طرف منتقل ہوگیا عجیب سی کیفیت ہوگئی، فرمانے لگے لوگ صدارت کی کرسی کیلئے کیسی کیسی حرکتیں کرتے ہیں ، حتی کہ دین و ایمان تک بیچ دیتے ہیں اسکے بعد حضرت کے زبان سے نکلا کہ اللہ انہیں غارت کرے، بس وہی لمحہ ہے کہ صدر جمہوریہ پر دورۂ قلب پڑا اورختم ہوگئے اسکی اطلاع اسی دن ظہر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے وقت باندہ سے آئے ایک صاحب نے دی اوربتایا کہ صبح ان کا فلاں وقت اچانک انتقال ہوگیا۔ سنکر حضرت مسکرانے لگے مجھ سے (مولانا عبداللہ طیب) کہا عبداللہ! ایک کی تو چھٹی ہوگئی چند ہی قدم چلے ہونگے کہ حضرت کا چہرہ ایک دم متغیر ہوگیا افسوس کے آثار نمایاں تھے فرمایا کہ کچھ بھی ہو وہ مسلمان تھا دعاء مغفرت کرو۔دارالعلوم کی شوریٰ کی رکنیت اوراستعفیٰ کا واقعہ حضرت والاؒ دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامع العلوم کانپور کی شوریٰ کے