واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
مولانا نسیم غازی فرماتے ہیں کہ حضرت حجۃ الاسلام (مولانا اسعداللہ صاحب) کی نظر میں آپ کا بڑا مقام تھا آپ کبھی نام نہ لیتے بلکہ احتراماً ہمیشہ’’حافظ صاحب ‘‘کے لقب سے یاد کرتے اور فرماتے تھے کہ اگر کل قیامت کے دن حق تعالی پوچھیں گے کہ دنیا سے کیا لایا؟ میں حافظ صدیق احمد صاحب کو پیش کردوں گا۔ حق نے فرمایا اگر اسعد سے تو لایا ہے کیا؟ عرض کردوں گا یہ صدیق اے مرے رب دو جہاں مولانا نصر احمد صاحب بنارسی فرماتے ہیں کہ ایک دن بعد نماز مغرب یا عصر میں حضرت مولانا اسعداللہ صاحب کی خدمت میں حاضر تھا اچانک فرمایا اپنے شاگردوں میں دومادر زاد ولی تھے مفتی عبدالقیوم اور مولانا صدیق احمد باندوی۔ (تذکرۃ الصدیق)مٹھائی نہ کھاکر کتابیں خریدنا مفتی زید صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت نے کئی مرتبہ بیان فرمایا کہ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے قریب چند مٹھائیوں کی دوکانیں تھیں ، عمدہ قسم کی مٹھائیوں سے دوکان سجی رہتی تھی، میں اس راستہ سے گذرتا اور طبیعت میں مٹھائی کھانے کا تقاضا ہوتا، لیکن پاس میں پیسے نہ ہوتے تھے اس لئے صبر کرکے رہ جاتا، دورہی سے نظر پڑجاتی تو نگاہ نیچے کرلیتا، کبھی اتفاق سے اگر پیسے ہوگئے تو جی خوش ہوا کہ آج مٹھائی کھالوں گا خوشی خوشی دوکان پہونچا اور دوکاندار سے مٹھائی کی قیمت پوچھی، بڑی گراں معلوم ہوئی اور پوچھا کہ شاید کوئی سستی مٹھائی ہو ایک طرف تو طبیعت کا تقاضا ہوتا دوسری طرف عقل یہ فیصلہ کرتی کہ اتنی گراں مٹھائی کھانے سے کیا فائدہ ۔ اتنے پیسوں کی تو فلاں کتاب مل سکتی ہے بالآخر اسی فیصلہ کے مطابق لوٹ آتا اور بجائے مٹھائی خریدنے کے کتاب خریدلیتا۔ (حیات صدیق)