واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
نعمت کی قدر و ناقدری عشاء بعد کی یومیہ ایک نشست میں نعمت کی قدر اور ناقدری پر مضمون چل رہا تھا اورکافی دیر سے بہت دھیمی بجلی آرہی تھی جسکی وجہ سے روشنی بھی کم تھی گرمی سخت تھی پنکھوں کی ہوا بہت معمولی اور ناکافی تھی لوگ گرمی کی شدت سے شدید پریشان تھے اسی اثناء میں بجلی چلی گئی اورسخت تاریکی چھاگئی اورگرمی نے ہر ایک کو تڑپادیا اس وقت حضرت نے فرمایا کہ اب قدر معلوم ہورہی ہے اس معمولی بجلی کی کمی ،بجلی کمزور تھی لیکن تھی تو پنکھے گوآہستہ چل رہے تھے لیکن چل تو رہے تھے ہوا معمولی سہی لیکن آتو رہی تھی لیکن اسی کا رونا تھا کہ بجلی پوری نہیں آرہی لیکن اب اسکی قدر معلو م ہورہی ہے کہ نہ ہونے سے وہی بہتر تھی جنریٹر چلایاگیا عجیب اتفاق کہ وہ اسٹارٹ ہوا لیکن کسی وجہ سے روشنی نہ ہوسکی حضرت نے فرمایا روشنی کیسے ہوگی ہم نے تو نعمت کی ناقدری اور ناشکری کی ہے اور نعمتوں کی ناقدری کا یہی وبال ہوتا ہے کہ وہ نعمت چھین لی جاتی ہے اللہ تعالی نے جسکو جس حال میں رکھا ہے اورجسکو جو کچھ بھی دے رکھا ہے اسکو اسی پر راضی اور خوش رہنا چاہئے اوراسی کا شکر اداکرتے رہنا چاہئے اللہ پاک نعمت میں اضافہ فرمائیں گے۔اہل بدعت کا جلسہ اور حضرت کا سلوک ابتدائی دور کا قصہ ہے کہ ایک مرتبہ باندہ میں اہل بدعت نے ایک جلسہ کیا، جس میں اہل حق علماء کو اور وہابیوں کو نشانہ بناکر بہت برا بھلاکہا صدیق زندیق کہا اس جلسہ میں حضرت کے بعض باہمت ماننے والے بھی تھے ان سے برداشت نہ ہوا اس نے اپنے دوست سے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے دوست نے حضرت کا ایک چھوٹا سا پرچہ دکھلایا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ان لوگوں کا جلسہ ہورہا ہے مجھ کو برا بھلا کہیں گے جوابی کارروائی نہ کرنا