واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
تعالی کی طرف سے ڈھیل ہے، جس ذات نے قارون کو فرعون کو ہامان کو مہلت دی ، بڑے بڑے کافروں کو مہلت دی وہ کیا ان کو مہلت نہیں دے سکتا لیکن پھر جب پکڑ ہوگی تو بہت سخت پکڑ ہوگی ۔اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِید۔ پھر ایسی پکڑ ہوگی کہ ڈھونڈے دھرتی نہ ملے گی، جہاں جائے گا ذلیل وخوار اور پریشان ہوگا، اور کوئی نہ ہوگا جواس کو اس پریشانی اور ذلت سے بچاسکے، اندھیرہے بیچارے غریب طلباء اوران کی چیزیں چوری کی جائیں ، اللہ کے یہاں بھی دیر ہے اندھیرنہیں ہے، جب وقت آئے گا اورجس وقت پکڑ ہوگی کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔کیا طالب علم جن کے لئے فرشتے پر بچھاتے ہیں ایسا ہوتا ہے جو چوری کرتا ہو، جس کی زمانہ طالب علمی میں بری عادت چوری کی عادت ہوگئی تو اب وہ جہاں بھی جائے گا چوری ہی کرے گا، وہ مکہ مدینہ خانہ کعبہ میں بھی جائے گا وہاں بھی چوری کرے گا وہ وہاں قرآن شریف اٹھائے گا تواس کا چوری کرنے کوجی چاہے گا، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ حقوق العباد کا معاملہ بہت سنگین ہوتا ہے اس کو تواللہ تعالی بھی معاف نہ فرمائیں گے اگر کسی نے کسی کا ایک پیسہ لیاہے تو اس کی سات سو برس کی مقبول نمازیں اس کے بدلہ میں دیدی جائیں گی۔(ایضاً)ایسے چور کے لئے بددعاء کرو اللہ اسے ہلاک اور ذلیل کرے فرمایا آج کل چوری کرنے کا بہت رواج ہوگیا ہے جہاں دیکھو چوری ہورہی ہے مہمان آتے ہیں ان کے جوتے چپل کوئی لے لیتا ہے قاری صاحب آئے تھے ان کا کسی نے لوٹا لے لیا، معلوم ہوتا ہے کوئی تاکے بیٹھا رہتا ہے ، میں بہت تنگ آگیا ہوں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں ، مسلمانوں کوجوستائے گا کیا وہ پریشان نہ ہوگا؟ کیا وہ دوزخ نہیں جائے گا؟ چند کوڑیوں کے خاطرا پنی عاقبت خراب کررہے ہو؟ اپنی جنت کو ختم