واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اچانک سہارنپور سے دہلی بھاگ جانے کا قصہ سہارنپور کی زمانۂ طالب علمی میں اساتذہ و طلباء میں آپ کی صلاحیت وصالحیت کا شہرہ تھا اور آپ کی گمنام محنت وریاضت سب کے نگاہوں میں آچکی تھی، اس کی وجہ سے بعض طلباء حاسد بن گئے۔ اور ذیل کا قصہ پیش آیا درجہ کے بعض ذہین طلباء جو تکرار کراتے تھے حضرت بھی ان کے تکرار میں شریک ہوجاتے اور بسااوقات تکرار کرانے والے ساتھی غلطی کرتے تو حضرت فرماتے کہ ایسا نہیں مسئلہ تو اس طرح ہے اور استاد نے اس طرح بتلایا تھا ساتھیوں کو خیال ہونے لگا کہ حافظ صاحب (یعنی حضرت والا نور اللہ مرقدہ جو حافظ صاحب کے نام سے اس وقت معروف تھے) زیادہ صلاحیت والے ہیں ان سے تکرار کرنا چاہئے حضرت نے انکار فرمایا کہ خواہ مخواہ اختلافی شکل پیدا ہوگی۔ لیکن ایک طالب علم حضرت کے پیچھے ہی پڑگیا کہ میں تو آپ ہی سے تکرار کروں گا اسکے شدید اصرار کی بناپر حضرت نے تنہا اسکو تکرار کرانا شروع کیا۔ دیگر طلباء کوجب اسکا علم ہوا تو ایک ایک کرکے درجہ کے تمام طلباء حضرت کے تکرار میں شریک ہونے لگے۔ اس طالب علم کو حضرت سے سخت بدگمانی ہوگئی کہ انہوں نے تمام ساتھیوں کو مجھ سے برگشتہ کرکے اپنی طرف مائل کرلیا۔ اسکی وجہ سے وہ طالب علم حضرت کا دشمن بن گیا اور حضرت سے لڑائی جھگڑا کرنے پر آمادہ ہوگیا، لیکن حضرت نہایت متواضع اور خاموش طبیعت تھے لڑناجانتے ہی نہ تھے مگروہ طالب علم اوراسکے ساتھی حسد کا شکار ہوکر حضرت کے درپے آزار ہوگئے اور تنہائی میں ڈرایا دھمکایا کہ ہم لوگ تم کو ماریں گے موقع کی تلاش میں ہیں ، حضرت تو نہایت سیدھے سادے ، بھولے بھالے خاموش رہ کر صبر کا گھونٹ پی گئے۔ اور بات بڑھنے کے خطرہ سے نہ اپنے ساتھیوں سے اسکا تذکرہ کیا اور نہ ہی اپنے بڑوں سے شکایت کی۔