واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
تک رکھا رہتا اور کھانے کی نوبت نہ آتی اور شام کو یونہی واپس چلاجاتابعد میں تو کھانا ہی ایک وقت کھاتے ناشتہ بھی غائب رہتا شام کا کھانا بھی بند۔ اللہ اکبر۔چار روز کا فاقہ حضرت مولانا زکریا صاحب سنبھلی فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت کو کانپور تشریف لے جانا تھا، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب کانپور تشریف لانے والے تھے، دوپہر کا وقت تھا جلد جلد اسباق سے فارغ ہوئے اور مدرسہ ومہمانوں سے متعلق بہت سے کام انجام دیئے، میں نے جلدی سے گھر سے کھانا منگوایاکھانا وہی روٹی چٹنی حضرت سے کھانے کے لئے عرض کیا۔ حضرتؒ نے کسی قدر جھلاہٹ کے ساتھ فرمایا آپ کو کھانے کی پڑی ہے مجھے بہت عجلت ہے۔ میں نے پھر عرض کیا حضرت نے پھر انکار کردیا لیکن میں نے ذرا اصرار اور پختگی کے ساتھ اپنی درخواست عرض کی تو ایک روٹی کھالی اور کانپور چلے گئے۔ چوتھے دن دوپہر میں میرے نام حضرت کا ایک پرچہ نومیل سے آیا(نومیل حضرت کے مدرسہ سے ڈیڑھ میل دور سڑک پر ایک جگہ ہے جو باندہ سے نومیل پر ہے وہاں کوئی آبادی نہیں ہے اسی لئے اس جگہ کا نام ہی نومیل پڑگیا ہے۔ آنے والی بسیں ہتھوڑا کی سواریوں کو وہیں اتاردیتی ہیں اور باندہ جانے کیلئے مسافر وہیں سے سوار ہوتے ہیں ) اس پرچہ میں لکھاتھا میرا کھانا اورایک لوٹے میں پانی لیکر کسی طالب علم کو بھیج دیجئے اورتین سائیکلوں کا انتظام کرکے بھجوادیجئے۔ میں مدرسہ کی دال لایا ہوں ، میں نے کھانا اورپانی توفوراً دو لڑکوں کے ہاتھ سائیکل سے بھیج دیا اورکہلا دیا مزید سائیکلیں ابھی بھیج رہا ہوں اوردونوں طالب علموں سے کہا کہ جب حضرت کھانا کھالیں تو تم میں سے ایک دال کی نِگرانی کے لئے وہیں رُک جائے اوردوسرا حضرت کوسائیکل پر بٹھاکر لے آئے ان لڑکوں نے ایسا ہی کیا حضرت تشریف لے آئے