واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اخیر عمر تک پڑھاتے رہے، ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو مرقاۃ کا سبق پڑھارہے تھے، میں کثرت سے حضرت کے پاس جایا کرتا تھا، اس زمانہ میں باندہ سے الہ آباد ٹرک بہت چلاکرتے تھے، باندہ میں اس وقت غلہ بہت ہوتا تھا، ملک کے مختلف حصوں میں یہاں سے غلہ جاتا تھا، الہ آبادبھی جاتا تھا اس لئے الہ آباد ٹرک بہت چلتے تھے، منو بھائی (باندہ کے صاحب ثروت مشہور آدمی) کی بسیں بھی بہت چلتی تھیں ، جس میں میرا کرایہ نہ لگتا تھا اس لئے الہ آباد کثرت سے حاضری ہوتی رہتی تھی، اگر ٹرک سے جاتا تو گھاٹ پر اتر جاتا، پل پر ایک کنارہ پڑا سوتا رہتا اورصبح رکشہ سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوجاتا ، ایک مرتبہ حاضر ہوا تو شاہ وصی اللہ صاحبؒ نے پوچھا کہ اتنی جلدی صبح کیسے آگئے ، احقر نے عرض کیا رات ہی آگیاتھا پل پر گھاٹ پر سوتا رہا، حضرت بہت ہنسے اور فرمایا صدیق کو دیکھو رات میں آیا اور گھاٹ پر وہیں سوتارہا مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے، ایک مرتبہ فرمایاتھا صدیق تم واقعی صدیق ہو۔ (مجالس صدیق:ص:۷۱)یہیں جامعہ ازہر بناؤ حضرت مولانا نفیس اکبر صاحبؒ صدر مدرس جامعہ عربیہ ہتھورا اپنا واقعہ بتاتے ہیں کہ احقر کا جب دیوبند سے فراغت کا سال تھا اور اسی دورۂ حدیث کی تکمیل کے زمانہ میں حکومت مصر نے ( جس کے صدر جمال عبدالناصر تھے) جامعہ ازہر سے دو عظیم استاذ الشیخ عبدالمنعم اور شیخ عبدالعالی عقبادی کو دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان پڑھانے کے لئے بھیج دیا تھا تو میں ان دونوں کے بہت قریب ہوگیا اور ان دونوں نے مجھے اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ مجھے جامعہ ازہر میں بھیج کر کلیۃ الشرعیہ میں داخل کرادیں گے اور میں بخوشی تیار ہوگیا میں اسکی تیاری کے سلسلہ میں اپنے گھر آگیا اتفاق سے ان ہی دنوں میں کانپور مسلم حلیم کالج میں ایک بڑا تبلیغی اجتماع تھا احقر بھی اجتماع میں گیا تھا وہاں حضرت مولانا