واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
لیٹ گیا، نیند تو کیا آتی بس پڑگیا کہ کچھ آرام کرلوں تقریبا گیارہ بجے رات کو ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے جنکا حلیہ یہ تھا سیاہ رنگ، سرپر بڑے سیاہ بال ، لمبا کرتا اور تہہ بند پہنے ہوئے، سیاہ لمبی ڈاڑھی میں نے چپکے سے ان کودیکھا اور ڈرگیا اللہ خیر کرے یہ تو کوئی جن ہے میں دم سادھ کر خاموش لیٹا رہا اور برابر ان پر نگاہ رکھے رہا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے، انہوں نے وضو کیا اورنماز میں مشغول ہوگئے جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو پتہ نہیں کیسے چٹائی میں آواز پیدا ہوگئی غالباً میرے غیر شعوری طور پرہلنے سے ہوگئی ہوگی تووہ زورسے بولے کون ہے رے؟ میں نے کہا صدیق!وہ بولے کہاں کا صدیق میں نے کہا ہتھورا کا وہ بولے اچھا تم یہاں مسجد میں کیوں لیٹے ہو؟ چلو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور کھانا کھاؤ میں نے بھی نہیں کھایا وہ مجھے اپنے گھر میں جو مسجد سے متصل تھا لے گئے کھانا کھلایا بستر دیا اور بہت آرام سے رکھا یہ صاحب موضع شیخن پور کے جمن خاں تھے جو میرے تبلیغی دوروں میں میرے بڑے معاون بنے اور بچشم نم فرمایا مجھے ان سے بڑی محبت ہوگئی تھی کہ اس نازک وقت پر میرے معاون ومحسن بنے رہے۔ ایک اورواقعہ حضرت مولانا شمس الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ استاذ جامعہ نے اپنا بیان فرمایا کہ فتح گڑھ جو مدرسہ سے تقریبا بارہ میل پر واقع ہے وہاں ایک صاحب کی لڑکی کی شادی تھی لڑکی کے والد نے حضرت سے شادی میں شرکت کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ آپ ٹرین سے سفرفرمائیں اوربدوسہ اسٹیشن پر آپ کو لانے کیلئے سواری کا انتظام رہے گا حضرت نے یہ دعوت منظورفرمالی۔(شادیوں میں حضرت کی شرکت کی بڑی وجہ یہ ہوتی تھی کہ وہاں تقریب میں آنے والوں کا ایک مجمع مل جائے گااوران کے سامنے دینی اصلاحی تبلیغی باتیں کرنے کا موقع ملے گا)چنانچہ حضرت مولانا اور مولانا شمس الدین مرحوم جواس وقت جامعہ کے طالب علم تھے دونوں نے شام کی ٹرین سے باندہ سے سفر فرمایا اور بدوسہ اسٹیشن پر رات کے وقت اترے، اسٹیشن پر نہ کوئی سواری تھی اور نہ کوئی