واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کے بکریاں چرانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکی کچھ اہمیت ہے فرمایا اصل میں تربیت کے لئے تکوینی طورپر انبیاء سے بکریاں چروائی گئیں تاکہ انسانوں کی اصلاح کرنا آسان ہوجائے اور صبرو ضبط کی صفت پیدا ہوجائے کیونکہ بکری بہت بدعنوانی کرتی ہے مشکل سے قابومیں آتی ہے، بھاگی بھاگی پھرتی ہے، غصہ آتا ہے اس سے صبر کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ (حیات وافاداتِ صدیق)بچپن کی پرمشقت تعلیم و تربیت مفتی محمد زید صاحب مدظلہ (حضرت والا کے خصوصی خوشہ چیں ) حضرت کا خود کا بیان کردہ حال نقل فرماتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا کہ جس وقت کہ میری عمر زائد سے زائد دس گیارہ برس کی ہوگی میں اپنے ماموں مولانا امین الدین صاحب سے پڑھتا بھی تھااور ان کے گھر کا پورا کام بھی کرتا تھا ان کی گھوڑ ی کے لئے جنگل سے گھاس میں خود اپنے ہاتھ سے کاٹ کر لایا کرتا تھا۔ مجھے گھاس کاٹنا بھی تو نہ آتا تھا اور آج بھی نہیں آتا لیکن جس طرح بن پڑتاتھا اوپر اوپر سے کاٹ کر لے آتا تھا اور یہ کوئی ایک دوروز کی بات نہ تھی بلکہ روزانہ کا معمول تھا۔ گھر کا پانی بھی میں خود بھرتا۔ اس وقت نل تو تھے نہیں کنویں سے پانی کھینچنے میں دقت ہوتی تھی چھوٹے بچوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے ایک ساتھ رسی پکڑ کر اچک اچک کر پانی کنویں سے کھینچتا تھا پانی بھرتا رہتا یہاں تک میں تھک کر چور ہوجاتا ان کے کپڑے بھی میں دھویا کرتا تھا۔ مولوی امین الدین صاحب جب پیر میں چوٹ آنے سے معذور ہوگئے تو وہ گھوڑی پر سوار ہوکر ہی کہیں جاتے گھوڑی کی لگام میرے ہاتھ میں ہوتی اس زمانہ میں باندہ کا سفر کثرت سے گھوڑی ہی کے ذریعہ ہوتا تھا اور میں ان کے ساتھ لگام پکڑ کے آگے آگے چلتا تھا۔ جب آپ باندہ تشریف لے جاتے تو پورے شہر میں ہلچل مچ جاتی اور ہر طرف اسکا چرچا ہونے لگتا