واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
خواب میں جامعہ کی بشارت حضرتؒ کے ابتدائی زمانہ کے شاگرد رشید حضرت مولانا شمس الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ (استاذ جامعہ) نے سنایا تھا کہ مدرسہ کی ابتدائی زندگی میں ہم چند طلباء تھے کھانے رہنے اوڑھنے، بچھونے کا صحیح ٹھکانہ نہ تھا برسات سردی گرمی سے بچاؤ کا کوئی ٹھیک انتظام نہ تھا۔ ایک مرتبہ برسات میں چھپر ٹپک رہا تھا حضرت ایک گوشہ میں طلباء کو سبق پڑھارہے تھے پڑھاتے پڑھاتے حضرت کی آنکھ لگ گئی ذراہی دیر میں بیدار ہوکر مسکراتے ہوئے عجیب خواب بیان کیا کہ بڑی لمبی چوڑی دو منزلہ عمارتیں کھڑی ہیں لوگوں کا آنا جانا لگا ہے طلباء کی چہل پہل ہے طلباء اس خواب کو سنکر حیرت و تعجب سے ہنسے کہ یہاں سرچھپانے کی جگہ نہیں حضرت مدرسہ کی بلڈنگوں کی بات فرمارہے ہیں لیکن زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ بے سروسامانی کے باوجود اللہ تعالی نے خواب کو حقیقت بنادیا اور سب نے اسکا مشاہدہ کرلیا۔خوردہ نوازی اساتذہ وطلباء کے ساتھ حسن سلوک مولانا محمدزکریا سنبھلی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ حضرت والاؒ جب باندہ تشریف لے جاتے تو اساتذہ سے دریافت فرماتے کہ میں باندہ جارہا ہوں کوئی کام تو نہیں ہے اور یہ سوال اتنا مبنی بر حقیقت ہوتا تھا کہ بعض اساتذہ بتلا بھی دیتے تھے کہ یہ کام ہے اور حضرتؒ وہ کام کرتے بھی تھے۔ میرے ساتھ تو یہ بھی لطف وکرم بارہا ہوا کہ باندہ سے کوئی چیز لائے اور کمرہ پر آکر بہت آہستہ سے آواز دی اور فرمایا کہ میں باندہ گیا تھا یہ چیز آپ کے لئے لے آیا ہوں ، ان چیزوں میں کبھی کوئی موسم کا پھل ہوتا کبھی مٹھائی ہوتی یہ معاملہ اور اساتذہ کے ساتھ بھی ہوتا ہوگامگر مجھے تو اپنے ساتھ ہونے والے لطف و کرم کا علم ہوتا تھا باقی حضرت کے لطف و کرم سب ہی اساتذہ کے ساتھ یکساں تھے۔ لیکن اخفاء