واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ایک منتشر المزاج شخص کو مشورہ غیر مسلموں میں تبلیغ سے متعلق گفتگو ایک صاحب دیہات سے تشریف لائے جوان پڑھ ہونے کے ساتھ مفلوک الحال اور سنکی قسم کے تھے کبھی کسی جماعت سے متعلق کبھی کسی جماعت سے ۔ کبھی الیکشن میں کھڑے ہیں کبھی مزدوری کررہے ہیں ، حضرت والا کو ان کے گھریلو حالات معلوم تھے خود پریشان حال مقروض تھے اور اس وقت بھوت سوار تھا غیر مسلموں کی تبلیغ کا اور حضرت سے بحث بھی کررہے تھے، حضرت نے ان سے فرمایا میری بات مانو میں خیر خواہی کی بات بتلارہا ہوں گھرکی فکر کرو، اتنا قرض لدا ہوا ہے اسکو اداکرو کہنے لگے قرض اداکر رہا ہوں تین بھینس بیچ دیں دو بیل بیچ کر قرض اداکردیا حضرت نے فرمایا بڑی عقلمندی کی ۔ ارے تجارت کیوں نہیں کرتے دوکان میں کیوں نہیں بیٹھتے کہنے لگے میں تو غیر مسلموں میں تبلیغ کرتا ہوں حضرت نے فرمایا میں اس سے منع تھوڑی کررہا ہوں لیکن پہلے اپنی بھی تو اصلاح کرو، غیر مسلموں کو اسلام کی تبلیغ کرتے ہو تو کون سا اسلام سکھانا چاہتے ہو کوئی نمونہ پیش کریں کہ اسلام ایسی زندگی چاہتا ہے، حالت یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں اور معاملات گندے ہیں ، کسی کا لیکر دینا نہیں جانتے گھر کا ماحول تتر بتر انتشار اختلاف کا شکار پورا معاشرہ بگڑا ہوا ہے اسکی پرواہ نہیں اور اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں کیا اسی اسلام کی دعوت دینا چاہتے ہو پہلے اپنا ماحول اورمعاشرہ تو درست کرو اخلاق ایسے بناؤ اسلام تو اخلاق سے پھیلا ہے اوراسلام کی تبلیغ ہوبھی چکی ہے، حضرت نے ان سے فرمایا حلال کمائی کی فکر کرو، ادھر ادھر کی بکواس نہ کرو مالی حالات درست کرو قیامت میں تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنے ہزار مسلمان کئے البتہ یہ پوچھا جائے گا کہ فلاں کے حقوق کیوں تلف کئے؟