واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
شریف، ملائم سنگھ، وغیرہ حضرات کے پاس متعدد حضرات کو اپنے پرچے لیکر بھیجا ہے۔ اور سب کے کام محض انسانی ہمدردی میں انجام دئے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالرشید صاحب ڈھاکہ محلہ ڈونگری ممبئی سے حضرت کے اچھے تعلقات تھے ان کے پاس متعدد مریضوں کو خط دیکر بھیجا ہے جسکی وجہ سے ان کا علاج بہت سستا ہوجاتا تھا۔ حضرت سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کے سامنے اس قسم کے صدہا واقعات پیش آتے رہتے تھے اور یہ ہی حضرت کا طرہ امتیاز تھا۔سمجھدار دین دار لوگوں کو بھی سحر و آسیب کا وہم ایک صاحب حضرت سے تعویذ لینے آئے اور عرض کیا کہ حضرت ایسا لگتا ہے کہ کوئی ہمارے پیچھے لگا ہے، کسی نے کچھ کرادیا ہے، حضرت نے فرمایا عجیب بات ہے، آج کل جس کو دیکھو ہر ایک یہی کہتا ہے کہ سحر و آسیب کا اثر ہے، جہاں ذراکوئی پریشانی یا بیماری آئی فوراً زبان پر یہی آتا ہے کہ کسی نے کچھ کرادیا، سحر کا یا آسیب کا اثر ہے، اس میں اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بلکہ بڑے بڑے علماء تک مبتلا ہیں ، بیماری ہوتوبھی سحر ہے ، پریشانی ہو تو کسی نے کچھ کردیا، کوئی نقصان ہو تو بھی کوئی پیچھے پڑا ہے، تعجب ہے کہ اچھے اچھے موحد ہیں اور توحید کا سبق سکھانے والے تبلیغ کرنے والے وہ بھی اس میں مبتلا ہیں اور یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ صاحب کسی نے کچھ کردیا ، اللہ رحم کرے اس وہم کی وجہ سے ایسی ایسی بدگمانیاں قائم کی جاتی ہیں کہ فلاں رشتہ دار نے یا فلاں شخص نے کچھ کرادیا، اس کو ایسا حق اور یقینی سمجھتے ہیں جیسے آسمان سے وحی نازل ہوگئی ہے کہ واقعی فلاں ہی کے کرنے سے یہ ہوگیا ہے ، اسی نے کچھ کردیا ہے۔ ارے جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ، جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے سحر بھی