واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
تھاکہ حضرت میرے جوتے لے کر چل رہے تھے میں نے بہت کہا کہ آپ میرے جوتے مجھے دیدیجئے مگر وہ نہ مانے اور فرمایا آپ صرف اپنے کو سنبھالئے ، چلے آئیے، سامان اور جوتوں کی فکر نہ کیجئے۔ اللہ اکبر حق تعالی ہم متوسلین کو بھی اس تواضع کا کچھ حصہ عطا فرمادے۔ یہ صاحب کہا کرتے تھے کہ حضرت نے تو بس اس ایک ملاقات میں مجھ کو اپنا غلام بنالیا۔ (تذکرۃ الصدیق)بس میں نماز مولوی انیس صاحب ایک مرتبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ بس کے سفر میں نماز کا وقت تنگ ہوتا جارہا تھا ڈرائیور سے دو تین مرتبہ روکنے کو کہاگیا اس نے نہیں روکا، اچانک حضرت بہت زور سے چیخے اور ایسا گرجے کہ ساری بس میں کھلبلی مچ گئی، اور فوراً ہی ڈرائیور نے گاڑی روک دی حضرت فوراً اترے نماز میں مصروف ہوگئے۔ بس میں حضرت کی آواز پر چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ کیا ہوا؟ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ نماز کیلئے ڈرائیورگاڑی نہیں روک رہا تھا اس پر حضرت غصہ ہورہے تھے تو پھر سارے ہی مسافر ڈرائیور پر ناراض ہوئے کہ بار بار روکنے پر کیوں نہیں روکا۔ حضرت مفتی عبیداللہ صاحب رقم طراز ہیں کہ ایک مرتبہ احقر ساتھ تھا، عصر کا وقت نازک ہوتا جارہا تھا خطرہ تھا کہ نماز قضا ہوجائے گا ڑی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ ڈرائیور سے میرا ذکر کرکے گاڑی روکنے کو کہو بہر حال گاڑی رکی اور نماز اداکی گئی۔ ایک مرتبہ ایسے ہی وقت کی تنگی کے باعث بس کے سفر میں گیٹ کے پاس ہی رومال بچھاکر نماز میں مشغول ہوگئے غرضیکہ کیسا ہی سفر ہو اور بے بسی کی سواری، مگر حضرت کی نماز قضا نہیں ہوسکتی تھی اورحضرت کی فکر پر شکل بھی بن جاتی تھی۔