واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
حکیم الاسلام قاری طیب صاحب کی پہلی بار ہتھورا آمد اور حضرت کا حال حضرت مولاناا نتظام صاحب فرماتے ہیں کہ جب پہلی بار قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند شہر باندہ کے لئے آئے اس وقت تک ہتھوڑا کبھی نہیں آئے تھے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ اورہم سب ان سے ملنے کیلئے باندہ گئے ملاقات کے بعد حضرت علیہ الرحمہ نے مہتمم صاحب سے کہا کہ میں شام کو حاضر ہوجاؤں گا ابھی اجازت دیدیجئے بچوں کو سبق دینا ہے، حضرت قاری صاحب (مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے فرمایا میں آپ کا مدرسہ دیکھنا چاہتا ہوں ، حضرت نے کہاکہ حضرت وہ مدرسہ ہی کیا ہے چند بچے ہیں راستہ بھی بڑی دشواری کا ہے، آپ کو تکلیف ہوگی، حالانکہ اس وقت تقریبا تین سو بچے تھے مہتمم صاحب بار بار جانے کو کہہ رہے تھے ادھر حضرت علیہ الرحمہ نہ جانے کا سماں بنارہے تھے، پھر حضرت علیہ الرحمہ نے مجھ سے فرمایا کہ اتنے بڑے لوگوں کو اتنی چھوٹی جگہ لے جانے سے کیا فائدہ کہیں تکلیف نہ پہنچ جائے، بہر حال ہم لوگ مدرسہ واپس لوٹ آئے ادھر قاری صاحب کا منشا پاکر لوگوں نے انکو مدرسہ پہونچاہی دیا، مولانا علیہ الرحمہ بہت خوش ہوئے خوب خاطر مدارات کی چند گھنٹے رہ کر واپس ہونے لگے تو میں ایک رجسٹر میں معائنہ لکھوانے چلا حضرت مولانا علیہ الرحمہ نے مجھے منع کیا یہ مدرسہ ہی کیا ہے جو معائنہ لکھائیں ایسے حضرات کو معائنہ کیلئے نہیں بلوایا جاتا، بہر حال قاری صاحب نے دیوبند پہنچ کر باقاعدہ از خود (ایک معائنہ لکھ کر حضرت مولانا کی خدمت میں روانہ فرمایا) (حقیقت وصداقت ص: ۴۱)