واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
حضرت نے فرمایا کہ حج سے فراغت کے بعد احقر مدینہ پاک کے لئے روانہ ہوا اور روضہ اقدس میں جاکر حاضر ی دی، صلوۃ و سلام پڑھا، اور الحمدﷲسفر میں ہر طرح کی آسانی رہی اور جلدی پہونچ گیا تھا، ادھر بریلوی عالم صاحب کی قیادت میں جو قافلہ تھا وہ سب ان کی حرکتوں سے عاجز آچکے تھے بڑی تاخیر سے بمشکل مدینہ پاک پہونچے وہاں مجھ سے ملاقات ہوئی میں نے ان حضرات کی رہنمائی کی، پھر تو ان ہی کے لوگوں نے اپنے عالم صاحب کو خوب سنایا کہ تم کہتے تھے کہ یہ وہابی مدینہ پاک نہیں جاتے، روضہ پاک میں حاضری نہیں دیتے، صلوۃ وسلام نہیں پڑھتے، یہ تو تم سے پہلے پہونچ گئے تھے اور صلوۃ وسلام بھی پڑھتے ہیں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہم بھی محروم رہ جاتے۔ (حیات صدیق۔ص:۱۴۷)ایک حج میں دو حج کا ثواب لے کر لوٹے مفتی عبیداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ رفیق محترم حضرت مولانا شمس الدین صاحبؒ (استاذ حدیث جامعہ) سے یہ سنا کہ حضرت کے پہلے سفر حج میں حافظ علی حسین بھی تھے، وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر سخت بیمار ہوگئے، تو حضرت ان کی عیادت میں لگ گئے ، اس طرح کہ ان کا پیشاب و پائخانہ سب کراتے، ان کو نہلاتے دھلاتے اوران کے قریب ہی رہتے اوریہ سب حضرت تنہا کرتے، باقی رفقاء طواف و نماز میں مصروف رہتے باندہ میں یہ تبصرہ بھی آپس میں ہوا کہ مولوی صاحب یہاں آکر سب چھوڑے ہوئے ہیں ، کسی نے حضرت سے ذکر کیا تو فرمایا کہ یہ زیادہ ضروری ہے۔ ہوتے ہوتے ان کی حالت اتنی خراب ہوگئی کہ جانکنی کا حال ہوگیا، موت کا یقین کر کے رفقاء رونے لگے (جن میں ان کے گاؤں کے اور عزیزوں میں سے کچھ لوگ تھے) یہ حالت دیکھ کر حضرت فوراً حرم تشریف لے گئے اورحرم محترم کا پردہ پکڑ کر دعاء کی