واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اے اللہ موت تو آنی ہی ہے ایسا کردے کہ بچوں سے انکی ملاقات ہوجائے۔ اللہ کا کرنا کہ ادھر حضرت نے دعاء فرمائی اور ادھر حالت سنبھل کر پہلے جیسی ہوگئی، حج مکمل کرکے بیماری کے حال میں ہی واپس آئے اور ایک ہفتہ بیمار رہ کر انتقال کیا۔ بوقت انتقال بتاکید وصیت کی کہ نماز مولانا پڑھائیں ، نہ ملیں تو مجبوری، حضرت کے پاس آدمی آیا حضرت آشوبِ چشم کی تکلیف میں تھے، تشریف لے گئے، بہت روئے اور نماز پڑھائی۔ سفر حج کی حضرت کی اس خدمت پر حضرت سے متعارف ایک صاحب علم مولانا سراج الحق صاحب مچھلی شہری علیہ الرحمہ (والد بزرگوار مولانا عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ) نے حرم مکی میں رفقاء سے فرمایا تھا’’ ہم سب ایک ایک حج کا ثواب لے کر جارہے ہیں اورمولانا صدیق صاحب دو حج کا ثواب لے کر لوٹ رہے ہیں ۔‘‘ ؎ دل بدست آور کہ حج اکبر استعمرہ اور نفلی حج کیلئے پیشکش اورحضرت کا جواب مراد آباد سے ایک صاحب نے فون پر حضرت سے بات کی بعد میں حضرت نے فرمایا یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے ایک مرتبہ مجھ کو بالکل تنہائی میں بلاکر عمرہ اورنفلی حج کے لئے بہت اصرار سے رقم دینا چاہی اور کہا مولانا میں آپ کو عمرہ کرانا چاہتا ہوں ، میں نے انکار کیا ان کا بہت اصرار تھا میں نے کہا کہ عمرہ تو میں کروں گا نہیں اس وقت اس سے زیادہ ضروری میں اسکو سمجھتا ہوں کہ بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں مکاتب، مساجد کا نظم نہیں ، بیوہ عورتوں کے اخراجات کا نظم نہیں ان میں خرچ کرنے کو میں زیادہ ضروری سمجھتا ہوں ۔ اگر آپ کو پیسے خرچ ہی کرنا ہے تو آپ اس میں خرچ کریں ۔ بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے یہ ہر سال عمرہ کرنے جاتے ہیں غریب محتاج بیوہ عورتیں پریشان ہیں ، ان