واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کیا ہوا تھا مولوی عبدالرحیم فتح پوری اس کے اس وقت مہتمم تھے وہاں کچھ عرصہ تک پڑھاتے رہے فتح پور سے ہمارا قرابتی تعلق بھی ہے جوارکا بھی تعلق ہے وہاں جاتے تھے تواس مدرسہ میں حاضر ہوتے تھے۔ وہاں مولانا قاری سید صدیق احمد صاحبؒ سے ملاقات ہوتی تھی وہ بہت خصوصیت کے ساتھ ملتے تھے۔ پھر اسکے بعد بعض وجوہ کی بناپر انہوں نے اپنے وطن ہی کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا اورمدرسہ قائم کیا صرف قائم ہی نہیں کیا بلکہ مدرسہ کے ساتھ انہوں نے عام مسلمانوں اور ملت اسلامیہ کی اصلاح و تربیت اوراسکی دعوت کو اپنا فرض سمجھا۔ حضرت مولاناؒ کی بصیرت وشرح صدر اور توفیق الٰہی کی بات تھی کہ انہوں نے دونوں کام ایک ساتھ شروع کئے ایک طرف مدرسہ اور دوسری طرف آس پاس کی بستیوں سے اسکے شہروں سے رابطہ قائم کرنا اور بار بار جانا اور دعوت کا کام کرنا اور دینی جلسوں میں شریک ہونا اور ان کو صحیح عقیدہ اوراصلاح نفس کا پیغام دینا۔ اس سے ان کی مصروفیت اتنی بڑھی ان کے مجاہدے اتنے بڑھے کہ بعض مرتبہ مجھے بھی اس تعلق کی بناپر جوان کی ذات سے تھا اور ان کا ہمارے خاندان والوں سے تھا اور حضرت سید احمد شہیدؒ سے توان کو بڑا تعلق تھا تواس بنا پر بھی اورپھر ان کی افادیت اوران کی زندگی کی قیمت کی بنا پر بھی میں نے بعض مرتبہ یہ پیغام بھیجا کہ آپ اتنا دور دراز کا سفر کرتے ہیں اور جفا کشی کرتے ہیں اور احتیاط نہیں کرتے تو یہ مناسب نہیں ہے ان کا یہ حال تھا کہ بالکل اسی بارے میں وہ مجذوب الفکر تھے۔ مجذوب الحال تھے اور وہ اسکی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ ان کو کیسا تعب ہوگا۔ اور ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ پھر ان کی صحت پر اثر پڑا۔ حقیقت میں مولانا رحمۃ اللہ علیہ علماء ربانیین میں تھے (ولکن کو نواربانیین )کہ اللہ تعالی نے ان سے دین کی تعلیم کا بھی کام لیا۔ اور دین کی اشاعت کا اور اصلاح کا بھی اور شریعت وسنت پر عمل کا رسوم وبدعات جو مسلمانوں کی زندگیوں میں شامل ہوگئی ہیں اسکے خلاف تقریر کرنا لوگوں کو