واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
ایک مرتبہ بھنے ہوئے چنے کے کچھ دانے کہیں سے میسر آگئے صبح کے وقت ان کو ہاتھ میں لئے کھانے جارہا تھا استاذ کی نگاہ پڑگئی ندامت کی وجہ سے وہ بھی نہیں کھاسکا۔ ٭عصر کے بعد کھیل تفریح کا کوئی قصہ نہ تھا حضرت کے ایک ساتھی مولانا عاشق الہی بلند شہری مہاجرمدنی تھے ان کے ساتھ ملکر بعد عصر تکرار ہوتا تھاصرف عصر تا مغرب کے مختصر سے وقت میں ہدایہ کے سال ہدایہ کا سترہ مرتبہ بالاستیعاب تکرار کیا تھا۔ ٭جمعرات کے دن سوکھی روٹی ٹکڑے بھگوکر نمک چھڑک کر سب ساتھی مل کر کھالیتے وہی دعوت ہوجاتی۔ جمعہ کے دن تمام اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کے کپڑوں ، کمروں کی صفائی اور جو کام ہوتا وہ کرتے تھے۔ ٭مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس زمانہ میں مظاہر علوم میں پڑھتے تھے پچاس برس پہلے یا اس سے زائد مدت ہوگی میں جب حضرت شیخ الحدیثؒ کی زیارت کیلئے جایا کرتا تھا یا رائے پور جایا کرتا تھا تو سہارنپور ٹھہرتا ہواجاتا یا واپسی میں ٹھہرتا تو مظاہر علوم بھی جاتا تھا، اس وقت ہمارے تعلق والے تین عزیز تھے ایک ہمارے عزیز بھانجہ مولوی محمد ثانی حسنی مرحوم اور ایک ہمارے یہاں دارالعلوم کے بڑے کارکن بننے والے مولوی محمد مرتضی صاحب مرحوم بستوی اور ایک مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب ؒ یہ تینوں اکثر ساتھ ہی ملتے تھے وضو کررہے ہیں تو دیکھا تینوں ساتھ ہی وضو کررہے ہیں نماز میں کھڑے ہوئے ہیں تو تینوں ساتھ ہی میں کھڑے ہوتے میں مولانا اسعداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں التزاماً جایا کرتا تھا ان سے ان تینوں کا روحانی تعلق تھا انہیں سے وہ (حضرت مولانا صدیق صاحبؒ) مجاز تھے تو مظاہر علوم میں ان تینوں سے ساتھ ساتھ ملاقات ہوتی تھی ان سے اس وقت سے تعارف ہے۔ اسکے بعد فارغ ہوکر نکلے تو پھر انہوں نے پہلے تو فتح پور کے مدرسہ میں جومولانا ظہورالاسلا ۷م صاحب ؒ کا قائم