واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
باش رہے۔ داد ا کے بعد حضرت کے دوسرے استاذ مربی مولانا امین الدین ماموں تھے ان کی خدمت حضرت نے جس طرح کی ہے اسکا اندازہ اس واقعہ سے لگائے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ میری عمر جس وقت زائد سے زائد دس گیارہ برس کی ہوگی میں مولانا امین الدین صاحب سے پڑھتا بھی تھااور ان کے گھر کا پورا کام بھی کرتا تھا ان کی گھوڑی کے لئے جنگل سے گھاس میں خود اپنے ہاتھ سے کاٹ کر لایا کرتا تھا مجھے گھاس کاٹنا بھی نہ آتا تھااور آج بھی نہیں آتا لیکن جس طرح بن پڑتا تھا اوپر اوپر سے کاٹ کر لے آتا تھا اور یہ کوئی ایک دوروز کی بات نہ تھی بلکہ روزانہ کا معمول تھا گھر کا پانی بھی میں خود بھرتا تھااس وقت نل تو تھے نہیں ، کنویں سے پانی کھینچنا پڑتا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں چھوٹا تھا کنویں سے پانی کھینچنے میں دقت ہوتی تھی چھوٹے بچوں کی طرح دونوں ہاتھ سے ایک ساتھ رسی پکڑ کر اچک اچک کر پانی کنویں سے کھینچتا تھا، پانی بھرتے بھرتے میں تھک جاتا تھا۔ کانپور کی زمانۂ طالب علمی میں استاذ کی خدمت کا انوکھا واقعہ گذرہی چکا ہے پانی پت جب تک رہنا ہوا تعلیمی انہماک کے ساتھ اساتذہ کے گھر کا کام بھی جی جان سے کرتے تھے سہارنپور میں ہی خصوصاً جمعہ کے دن جملہ اساتذہ کے پاس خدمت میں جانا کپڑے دھونا کمرے کی صفائی وغیرہ کرنا معمول تھا۔ آخیر میں حضرت مولانا اسعداللہ صاحب ناظم مظاہر علوم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں خصوصیت کا شرف حاصل رہا، حضرت کے لئے گھرسے دونوں وقت کھانا لانا اور بازار سے گھر کا سودالانا۔ حساب کتاب لکھانا وضوکرانا سفر میں خادم رہنا، بدن دبانا، سب آپ انجام دیتے تھے حضرت فرماتے تھے میں اونچے تکیہ پر کتاب کھول کر رکھ لیتا اور پیر دبانے کے ساتھ کتاب بھی دیکھتا رہتا یہ معمول تقریبا روزکا تھا جب حضرت سوجاتے اس کے بعد اور کتابوں کا مطالعہ کرتا، ترمذی شریف کی تقریر تقریبا ڈھائی بجے رات تک لکھتا۔ پوری رات میں صرف دو گھنٹہ بمشکل سوتا تھا صبح