واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کہ جب میں مظاہر علوم سہارن پہونچا، میرا امتحان داخلہ مولانا سید ظہور صاحب کے پاس تجویز ہوا، مولانا نے فارم داخلہ دیکھ کر فرمایا سید ہو؟ پھر فرمایا سید کا بچہ پڑھے اچھایا مرے اچھا میں نے عرض کیا حضرت اچھا پڑھ کر تو میں دکھاؤں گا اچھی موت کی آپ دعاء فرمادیجئے۔ مولانا اس جواب سے بہت خوش ہوئے۔ کافیہ کے کچھ سوالات کئے میں نے جواب دیئے امتحان میں پاس ہوگیا اور داخلہ ہوگیا۔ سہارنپور کے زمانہ طالب علمی میں حضرت کی محنت وصلاحیت واستعداد بے مثال تھی۔ امتحان کے بھی محض پرچے حضرت نے اتنے عمدہ حل کئے تھے کہ مدرسہ کے ریکارڈ میں ان کو اہتمام سے محفوظ کرلیاگیا۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ حضرت والا نے جلالین کے درس کے دوران ’فاغسلووجوہکم وایدیکم الی المرافق، کے تحت بیان فرمایاتھا۔ حضرت نے فرمایا شرح وقایہ میں اس آیت کی اچھی تفصیل ہے، شرح وقایہ میں نے مولانا عبدالشکور صاحب سے پڑھی ہے اتفاق سے امتحان میں یہی سوال آگیا میں نے بڑی تفصیل سے اس کا جواب لکھا تھا اس وقت خط (رائٹنگ) بھی عمدہ تھا اور عنوانات بھی جلی قلم سے خوشنما لکھے تھے چنانچہ دیکھنے میں بھی عمدہ معلوم ہورہا تھا اور مضمون کے اعتبار سے بھی درست تھا اس وقت مولانا عبداللطیف صاحب مدرسہ کے ناظم تھے حضرت ناظم صاحبؒ نے میرا پرچہ اٹھاکر دیکھا اور بہت تعجب کیا اور جب پورا مضمون پڑھا تو اور بھی خوشی کا اظہارفرمایا اوردریافت فرمایا کہ یہ کس کا پرچہ ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ فلاں طالب علم کا ہے مولانا عبدالشکور صاحب نے تعارف کرایا۔ میں زینہ سے اتر رہا تھا کہ سامنے سے میرے استاذ مولانا عبدالشکور صاحب تشریف لارہے تھے مجھ کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ جلالین شریف کیلئے اس وقت (سہارنپور میں جلالین کے سال) صرف بیان القرآن دیکھا کرتا تھا۔ خود جلالین بھی کم دیکھتا تھا اور