واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
مولانا ریاست صاحب (کوٹی) غرض بڑا مجمع پہونچا، لیکن ادھر حکومت کے کلکٹر نے دفعہ ۱۴۴ قائم کردی کہ جلسے کی اجازت نہیں ، اور ہم بھی پولیس کے پہرے کے باوجود ٹرک میں بیٹھ کر بہت احتیاط سے چھپ چھپاکر پہونچ ہی گئے۔ ان لوگوں نے ہمارے پاس اطلاع بھیجی کہ کلکٹر کی طرف سے ممانعت ہوگئی ہے، لہذا لوگ دوبارہ اپنے آدمیوں کو بھیج رہے ہیں تاکہ اجازت ہوجائے، آپ بھی اپنا نمائندہ بھیج دیجئے تاکہ دونوں فریق کی موجودگی میں اجازت ہوجائے ہم نے کہا بہت اچھا نمائندہ بھیج دیا، کلکٹر ہندو تھا (ان حضرات کی طرف سے مولانا ریاست علی صاحب کوٹی تشریف لے گئے جو ان دنوں جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر تھے، اورعلامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگردوں میں سے تھے) اس نے کہاکیا بات ہے، مناظرہ کیا ہوتا ہے؟ اسے بتلایاگیا کہ جس طرح سے عدالت میں دو وکیل کھڑے ہوکر گفتگو کرتے ہیں ایک کہتا ہے اس طرح سے ہے، دوسرا کہتا ہے اس طرح سے نہیں بلکہ اس طرح ہے، اسی طرح مناظرہ ہوتا ہے، کلکٹر نے کہا یہ تو مباحثہ ہے ، اس میں کیا حرج ہے، کس بات پر مباحثہ ہے؟ کہاگیا کہ یہ (دوسرے خیال کے ) لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے عالم جو گزرے ہیں یا کچھ موجود ہیں وہ مسلمان نہیں مثلاًمولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمن ، مولانا محمد میاں ، مولانا احمد سعید دہلوی وغیرہ، علماء دیوبند کا نام لیا جو سیاست میں حصہ لیتے تھے(مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کا بھی تذکرہ کیا گیا) کلکٹر نے کہا ان کو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان نہیں ہیں ؟ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ یہ تو غلط طریقہ ہے، ایک پنڈت کو یہ کہنے کا حق ہے کہ میں پنڈت ہوں لیکن یہ کہنے کا حق نہیں کہ فلاں پنڈت ، پنڈت نہیں ، اپنے متعلق دعوی کرسکتا ہے دوسرے کے متعلق نفی نہیں کرسکتا، اس پر تو فساد ہوجائے گا، جب مسلمانوں کے بڑوں کو یہ کہا جائے گا کہ وہ مسلمان نہیں پھر اس کو کون برداشت کرے گا، اس پر ان لوگوں (دوسرے خیال کے لوگوں ) نے