واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
میں فلاں پیر صاحب آرہے ہیں ایک شادی ہے، لوگوں نے مجھے بھی بلایا ہے میں بہت پریشان ہوں کہ کیا کروں ، جاتا ہوں تو وہ پیر صاحب ہمارے اکابر کو گالیاں دیتے ہیں گالیاں دیں گے، سننی پڑیں گی، اگر میں بولتا ہوں تو فساد ہوجائے گا، غرض بولوں تو مصیبت ، نہ بولوں تو مصیبت ، کیا کروں ؟ میں نے ان کو جواب لکھ کر بھیجا کہ آپ گھبرائیں نہیں جس وقت وہ آئیں آپ تار بھیج دیجئے گا، یا فون کردیجئے گا میں انشاء اللہ وہاں پہونچ جاؤں گا۔ چنانچہ شادی ہوئی پیر صاحب نے مناظرہ کے لئے کہا، مولانا صدیق صاحب نے کہا کہ مناظرہ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ بیکار ہے، انہوں نے کہا اگر مناظرہ نہیں کرتے تو دیوبندیت کی لعنت سے توبہ کرو، انہوں نے مولانا کو مجبور کیا، تو مولانا نے کہا اچھی بات ہے ، چلو مناظرہ سہی، اس پر وہ مولانا سے بولے کہ اپنے پیر کو بلالو اورتاریخ مقرر کرلو مولانا نے کہا: یہی آج ہی کی تاریخ ہے،، کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں میں تنہاکافی ہوں ، اس پر پیر صاحب نے کہا کہ اس وقت مناظرہ کیسے ہوسکتا ہے، ہمیں حج کو جانا ہے، حج سے واپسی پر مناظر ہوگا، (مولانا نے) مجھے اطلاع کی کہ یہ ہوگیا ہے، میں نے کہا یہ غنیمت جانو اورجو حضرات اہل قلب ہیں اللہ نے جن کے دل میں اپنا خوف اورحضور ﷺ کی محبت ڈال دی ہے ان کی تقریریں کرایئے اورصرف نبی اکرم ﷺ کے حقوق بیان کیجئے اوریہ کہ ان کے اداکرنے کا کیا طریقہ ہو، یہاں تک کہ لوگوں کے ذہنوں میں جو مغالطہ ہے وہ ختم ہوجائے چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب پیر صاحب واپس پہنچے تو مولانا نے مجھ کو اطلاع کی، میں دیوبند سے وہاں پہونچا، اوردوست احباب کو بھی بلایا، مولانا ارشاد صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند سے ، مولانا قاری صدیق صاحب اورمولانا عبدالسلام صاحب لکھنؤ سے ، مولانا عبدالوحید صاحب فتح پور سے ، کانپور سے مولانا منظور صاحب، مولانا مبین الحق صاحب،