واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
کہا جی ہاں وہ مسلمان نہیں تھے، تو کلکٹر نے کہا یہ نیکی پھیلانے کے لئے کیا میرا ہی ضلع رہ گیا ہے؟ سب کوپکڑ کر بند کرادوں گا خوب ڈانٹ دیا، غرض مناظرہ ہی ختم ہوگیا۔ جب وہاں سے واپس ہونے لگے تو اس شخص نے کہا صاحب ہم تو مناظرہ سننے کے لئے آئے تھے آپ جارہے ہیں ہم نے کہا ہم بھی مناظرہ کرنے آئے تھے، آپ اجازت لو کلکٹر صاحب سے آپ کا ضلع ہے، ہم توتیار ہیں ، مگر اجازت مل جائے اگر تم لوگ اجازت نہیں لے سکتے تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں چلودیوبند۔ یہاں ہم آپ کی دعوت پر آئے تھے وہاں آپ ہماری دعوت پر آئیں ، وہاں کلکٹر سے اجازت لینا ہمارے ذمہ ہوگا بلکہ جتنے مہمان آپ کے ساتھ ہوں گے ان سب کا کھانا بھی ہمارے ذمہ، انہوں نے کہا ہم دیوبند نہیں آسکتے، ہم نے کہا ہم نے تو یہ جواب نہیں دیا تھا کہ ہم آپ کے یہاں نہیں آسکتے ۔ ایک اور شخص نے کہا ہم تو مناظرہ کے لئے آئے تھے۔ میں نے کہا کون ہو؟ اس نے کہا سنی ہوں ، مولانا احمد رضا خاں کا معتقد ہوں ، میں نے کہا وہ سنی نہیں تھے اس واسطے کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھے سنتیں معاف ہیں جس کی سنتیں معاف ہوں وہ سنی کیسے ہوسکتا ہے، مولانا احمد رضا خاں کی کتابوں میں یوں موجود ہے کہ ’ بحمداللہ میں اپنی حالت وہ پاتا ہوں کہ سنتیں مجھے معاف ہیں میں نے سنتیں تو نہیں چھوڑیں البتہ نفلیں اسی روز سے چھوڑدیں ‘‘۔ حالانکہ نفلیں پڑھنا بھی حضور ﷺ کی سنت ہے حضور ﷺ نے تو نہیں چھوڑیں جب سنتیں معاف ہیں تو سنی کیسے؟ مولانا ریاست علی صاحب نے کہا اچھاکوٹ چلو وہاں مناظرہ کریں گے، مگر وہ کہاں آتے۔۔۔ پھر انہوں نے یہ تجویز کیا کہ کانپور میں مناظرہ ہوگا کانپور سے مجھے اطلاع کی گئی، میں نے کہا انکار ہرگز مت کرنا، مناظرہ کے جو شرائط وہ رکھیں رکھنے دیں ۔ اصل میں وہ چاہتے تھے کہ چاہے ایک ہی جھڑپ ہوجائے، تاکہ غلہ وروپیہ(جو انہوں نے