واقعات صدیق |
اقعات ِ |
|
اورساتھ چلنے کی منظوری عنایت فرمادی صبح کو اول وقت میں ہم لوگ مانی کلاں سے ہنسور کیلئے روانہ ہوگئے راستہ میں حضرت قاری صاحب نے دریافت فرمایا کہ تمہارا کیا نام ہے اورکہاں رہتے ہو، میں نے نام کیساتھ اپنا غریب خانہ قصبہ بھدرسہ ضلع فیض آباد بتلایا۔ حضرت نے فوراً فرمایا کہ وہاں ایک صاحب اقبال فیضی رہتے ہیں آپ ان کو جانتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں جانتا ہوں بلکہ وہ تو میرے محلہ ہی کے ہیں ، حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے ایک درودو سلام لکھا ہے جو بہت ہی مقبول ہے اور عمدہ بھی ہے میں نے کہا ہاں وہ تو میرے پاس اس وقت قلمی لکھا ہوا موجود بھی ہے۔ حضرت نے دوبارہ فرمایا کہ تمہارے پاس یہاں ہے میں نے کہا ہاں ، حضرت نے فرمایا کہ اس کو مجھے سناؤ، چنانچہ حضرت کے کہنے پر میں نے اس کو ترنم سے پڑھنا شروع کیا (جبکہ میں ترنم سے پڑھنے کا نہ عادی ہوں اور نہ ترنم سے پڑھنے کا ڈھنگ ہے) لیکن حضرت کا حکم تھا اس لئے الامر فوق الادب کے تحت پڑھنا شروع کردیا۔ تو دیکھا کہ حضرت پر ایک وجد کی کیفیت سی طاری ہے اور حضرت بہت محظوظ ہورہے ہیں ، میں جتنا ہی پڑھتا جاتا حضرت کو اتنا ہی وجد آتا۔ بالآخر میں نے پوری نظم قلمی جو میرے ہاتھ میں تھی پڑھ کر سنادی، حضرت نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اس کو کوئی چھپوادے ، میں نے کہا کہ حضرت آپ دعاء فرمائیں میں انشاء اللہ اسکو چھپوادونگا۔ حضرت نے دعاء دی اور فرمایا کہ جب چھپ جائے تو میرے پاس بھی بھیج دینا۔ الحمدﷲ وہ درود سلام اور کچھ مختلف نظمیں یکجا کرکے ایک رسالہ کی شکل میں طبع کرادی گئی ہیں جس کا نام ’’ہمدرد مسلماں ‘‘ ہے پھر وہ کتابچہ حضرت کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت نے خوشی کا اظہار فرمایا اور بہت دعائیں دیں الغرض کلام الہی و نعت نبوی سے حضرت کا دل و دماغ قلب و لسان سرشار رہتا موقع نہ ملنے کی وجہ سے سفر میں ہی اپنے اوقات کو غنیمت سمجھ کر۔ ان کا موں میں مشغول رکھتے۔