واقعات صدیق |
ˆاقعات ِ |
|
بہت ہی سادہ سی دال روٹی آجایا کرتی تھی اور اکثر ہی بلکہ تقریبا روز ہی حضرت کے گھر سے ایک پیالہ یا چھوٹی سی المونیم کی پتیلی میں کبھی سبزی کبھی دال آجاتی تھی اس وقت تک مجھے حضرت کے گھر کے کھانے کا حال معلوم نہ تھا۔ ایک دن میں کھانا کھانے کیلئے اپنے کمرہ میں بیٹھ چکا تھاکہ مولانا کی ایک بچی جس کی عمر اس وقت تقریبا چھ سات سال ہوگی میرے لئے سبزی لیکر آئی ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم کھانا کھالو۔ اس نے کہا میں کھانا کھاچکی ہوں میں نے بس یوں ہی مزید سوال کردیا کہ کیا کھایا؟ اس نے کہا کہ چٹنی چاول ۔ میں نے پوچھا یہ سبزی کیوں نہ کھائی بھولی بھالی بچی نے گھر کی حقیقت صاف صاف بیان کردی کہ یہ توصرف آپ کے لئے پکتی ہے۔ یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے اس سے کہا تم یہ واپس لے جاؤ اس نے کچھ تکلف کیا لیکن میرے اصرار پر واپس لے گئی۔ کچھ دیر کے بعد پھر لے آئی لیکن میں نے کسی بچہ کے ہاتھ دوبارہ واپس کردی اوربعد میں میں نے حضرت سے شکایت کی کہ میرے چھوٹے بھائی، بہن تو چٹنی کھائیں اور میرے لئے اہتمام سے سبزی یا اچھی سی دال بناکر بھیجی جائے مجھے آپ اتنا بے حمیت اور خود غرض نہ سمجھیں ۔ حضرت نے اسکو بالکل اہمیت نہ دی اور فرماتے رہے پتہ نہیں بچی نے آپ سے کیا کہہ دیا اور آپ اتنے متاثر ہوگئے ارے بچے گھروں میں سب کچھ کھاتے رہتے ہیں آخر میں نے ہی ہار مان لی اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہا۔ میں شروع میں جب حضرت کے ساتھ چند دن کھاتا رہا تو مجھے حضرت رومال میں سے گیہوں کی چپاتی نکال کر دیتے اور خود اسی رومال میں سے لقمہ توڑ کر ہی نکال کر کھاتے تھے کئی وقت کے بعد پتہ چلا کہ یہ صورت اس لئے اختیار فرمائی جارہی ہے کہ حضرت جوار کی روٹی کھارہے ہیں اور یہ دال سبزی کی طرح گیہوں کی چپاتی کا اہتمام بھی صرف اس احقر کے لئے ہے ۔ کھانے کا یہ ساتھ حضرت کے غیر معمولی مشاغل کی وجہ سے زیادہ دن نہ رہ سکا حضرت کا نہ کوئی وقت متعین نہ کھانا کھانا ہی طے تھا دوپہر کا کھانا شام